شہر عزیز میں شب برات کی روایتی شان و شوکت اور چند توجہ طلب باتیں NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2457 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



شہر عزیز میں شب برات کی روایتی شان و شوکت اور چند توجہ طلب باتیں
غلام مصطفی رضوی*
اسلام نے فطری مزاج کی رعایت کی ہے۔ ہر فطری اصول پورے کیے۔اللہ کریم نے انسانوںکو بنایا۔ ایک جیسا نہیں۔ کسی کو فضیلت دی۔ کسی کو شان و عظمت۔ انبیاے کرام کو اپنی معرفت کا ذریعہ بنایا۔ انھیں پیغمبرانہ قوت سے ممتاز کیا، جس کا اندازا عقلیں نہیں کر سکتیں۔ انبیا میں بھی امام الانبیاء ﷺ کو بے مثل خصوصیات سے نوازا۔ ان پر نازل کتاب ’’قرآن‘‘ ہر دور کے لیے ’’رہبر‘‘ اورادیانِ باطلہ کے لیے ’’چیلنج‘‘ ہے۔ سائنسی ترقیات؛ قرآنی احکام و معارف کی کنہ اور گہرائی تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ جہاں جہاں عقلاے زمانہ نے قرآن سے فیض لیا کام یابی سے ہم کنار ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح ایام بھی ایک سے نہیں۔ قرآن میں جنھیں ’’ایام اللہ‘‘ کہا گیاان کی شان بڑی ہے۔ایام حج، عیدین، شب برات، شب قدر، شب معراج سبھی کی وجہِ عظمت ہے۔ پھر وہ آیتیں جو محبوب ﷺ کی آمد کی بشارتوں پر مشتمل ہیں، وہ بھی کسی ’’دن‘‘ کی عظمت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ محبوب ﷺ آئیں گے۔
’’شب برات‘‘ باعظمت ہے۔ حدیث میں مغفرت کی بشارت اس شب کا خاص انعام ہے۔ہماری عقل رب کی حکمتوں کا اندازا نہیں کر سکتی۔ جب کہ کسی دن یا کسی شب کا تقدس اجاگر کر دیا گیا ہو تو اس کی ’’انفرادیت‘‘ کیسی ہوگی!…عظمتوں کی شب ہے ’’شبِ برات‘‘…پھر زندہ دلانِ اُمہ کیوں نہ اسے ملحوظ رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر میں اسے اسلامی شان و مسلم وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔مسلم اکثریت کے اس محور کی رونق کے اظہار کی شب یہاں خوب ہوتی ہے۔
روایتی شان و شوکت:
زمانی ترقی نے بہت سے علاقوں میں اسلامی مواقع کے منائے جانے کے مزاج کو متاثر کیا۔ خوشی کے مواقع غیر شرعی کاموں کی نذر کرنا افسوس ناک ہے۔ مبارک مواقع پر خصوصیت سے اچھے و جائز امور کیے جانے چاہئیں۔ لیکن! بعض بڑے شہروں میں شب برات میں آتش بازی کا رجحان خطرناک ہے۔ اس سے دین و دنیا دونوں کا خسارا ہے۔ بحمدہٖ تعالی! ہمارا شہر مالیگاؤں اس وبا سے پاک ہے۔ یہاں شب برات میں آتش بازی، پٹاخہ بازی بالکل نہیں ہوتی بلکہ روایتی طور پر عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پسندیدہ کام انجام دیے جاتے ہیں۔ خوش بو لگانا، صاف لباس زیب تن کرنا، قرآن خوانی کرنا، میٹھا بنانا، مسلمانوں کو کھلانا، تحفہ میں دینا، ایصال ثواب کرنا، ارواحِ مومنین کے لیے ثواب پہنچانا، مساجد میں قرآن پڑھوانا، اپنی میتوں کو اعمالِ صالحہ سے یاد کرنا، قبروں کی صفائی اس لیے کرنا کہ قبورِ مومنین کا لحاظ ہو، قبرستان جانا، فقرا و مساکین کی مدد کرنا، بچوں پہ شفقت، ایک دوسرے سے مروّت، مساجد میں عبادتوں کی خصوصی تڑپ، نمازوں کی پابندی، دعاؤں کی سوغات، سلام باقیام و نعت خوانی کا اہتمام۔ یہ وہ اعمال ہیں جن سے قربِ الٰہی ملتا ہے۔ پیارے آقا ﷺ کی رضا و خوش نودی کا حصول ہوتا ہے۔
کوئی سا اسلامی موقع ہو۔ مالیگاؤں کے مسلمان بیداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شب برات یہاں صدیوں سے منائی جا رہی ہے۔ سر شام پندرہویں شب کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ کاروبار بند ہوجاتے ہیں۔ ماحول پر سکون ہو جاتا ہے۔مساجد کو شانِ مسلم کے اظہار کے لیے خوب آراستہ کیا جاتا ہے۔ دُھلے و ستھرے کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ روزوں کا بھی وہ اہتمام کہ رمضان کی شامِ پُررونق یاد آجاتی ہے۔چوں کہ یہ مغفرت کی شب ہے۔ مسلمان خوش ہوجاتے ہیں۔ رب کی رحمت بے کراں ہمیں آواز دے رہی ہے۔ گناہوں کی تیرگی سے نکل کر کتنے ہی نیکیوں کے نور میں نہانے والے ہیں۔ عصیاں شعار تائب ہونے والے ہیں۔سبھی خوش ہوتے ہیں۔ خوشی میں حدیث پاک کا وہ حصہ شاید اسلاف کے پیش نظر رہا ہوگاکہ[مفہوم]آقا کریم ﷺ کو شہد و حلوہ مرغوب تھے۔ ممکن ہے اسی لیے ’’حلوہ‘‘ بنانا مسلمانوں نے پسند کیا۔ سچ ہے خوشی کے موقع پر میٹھے کی طرف رَغبت فطری بات ہے۔ اہلِ مالیگاؤں نے اس روایت کو باقی رکھا۔ میٹھا بناتے ہیں۔ کھاتے اور کھلاتے ہیں۔ خوش ہوتے اور خوش کرتے ہیں۔مسجدوں میں جھنڈ دَر جھنڈ نمازی آتے ہیں۔
یہاں قبرستانوں میں بھی عجب سماں ہوتا ہے، شب ’’صبح سے حسیں‘‘ معلوم ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ زندے’’مُردوں‘‘ کے حقوق کو ہمہ وقت یاد رکھتے ہیں۔ احترام انسانی کا وہ سُہانا منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ روح جھوٗم جھوٗم جاتی ہے۔ اسلام نے مُردوں کو بھی یادرکھا۔ انھیں محروم نہ کیا۔ مُردوں کا بھی حق ہے۔ ایصالِ ثواب کے ذریعے ان کی راحت کا سامان کیا گیا۔ حدیثوں میں اس بابت صراحت موجود ہے۔ اسلام نے عہدِ جاہلیت کی بُری رسموں کو مٹایا۔ قبرِ مومن کا احترام سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے مرحومین کی قبروں کو نمایاں کرتے اور ان کی ستھرائی کرتے ہیں۔یہ بھی ایک فطری عمل ہے جس سے انسیت کا اظہار ہوتا ہے۔ قبورِ مسلم پھولوں سے آراستہ بھلی لگتی ہے۔پھولوں سے شعرا نے تشبیہات واستعارات کے ہزاروں عنوان باندھے؛ لیکن ان کی اہمیت ان معنوں میں ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اسی لیے قبرِ مومن پھولوں سے آراستہ کی جاتی ہے۔
چند توجہ طلب امور:
[۱] شب برات میں نمازیوں سے مساجد پُر ہوتی ہیں۔ یہی پابندی پورے سال قائم رکھی جائے۔
[۲]گناہوں سے توبہ کی طرف رغبت ہوتی ہے، آئندہ بھی ترکِ گناہ کا معاملہ اپنایا جائے۔
[۳]نوافل کا اہتمام ہوتا ہے، اگر فرض نمازیں قضا باقی ہوں تو بجائے نفل کے قضائے عمری ادا کریں۔ اور پھر یہی شب کیا پورے سال حتی المقدور قضا نمازیں ادا کرتے رہیں۔
[۵]عالمِ اسلام میں میٹھا بنانے کا جو رواج ہے، اس میں غریبوں کا بھی خیال رکھا جائے کہ وہ بھی محروم نہ رہ جائیں۔
[۶]صدقات و خیرات کی تقسیم ہوتی ہے، اس میں حاجت مندوں کو ملحوظ رکھیں۔
[۷]غربا و ضرورت مند بیماروں کے علاج معالجے کا بھی لحاظ رکھیں۔
[۸]بے جا سیر و تفریح، ہوٹلوں میں وقت بربادی، سڑکوں پہ دھینگا مستی سے بچیں اور دوسروں کو بچائیں۔
[۹]لڑکے فجر بعد اِدھر اُدھر مستی کرتے پھرتے،سواریوں کو نقصان پہنچاتے، انھیں سمجھائیںاور بُری عادتوں سے بچائیں۔
[۱۰]ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیں، شر پھیلانے والوں کو مسترد کریں،
آخر میں عرض ہے کہ بحمدہٖ تعالیٰ اس شہر کی اپنی اسلامی شناخت ہے، اس کے اظہار کے جو مواقع ہیں اور ان میں دائرۂ شرع میں جو کچھ اعمالِ صالحہ کیے جاتے ہیں اس وقار کو باقی رکھیں، تا کہ فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوں ۔ ہاں! کوئی بات شریعت کے خلاف ہو تو اسے ضرور روکیں کہ حفاظتِ شریعت ضروری ہے۔
٭٭٭
*نوری مشن مالیگاؤں gmrazvi92@gmil.com Cell.9325028586