مرگی کی بیماری بغدادسے بھاگ گئی NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1842 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



ایک شخص حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا کہ \\\'\\\'میں اصبہان کا رہنے والا ہوں میری ایک بیوی ہے جس کو اکثر مرگی کا دورہ رہتا ہے اور اس پر کسی تعویذ کا اثر نہیں ہوتا۔ \\\'\\\'حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی،قطب ربانی،غوث صمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ
یہ ایک جن ہے جو وادی سراندیپ کا رہنے والا ہے، اُس کا نام خانس ہے اور جب تیری بیوی پر مرگی آئے تو اس کے کان میں یہ کہنا کہ
اے خانس!تمہارے لئے شیخ عبدالقادر جو کہ بغداد میں رہتے ہیں ان کافرمان ہے کہ
آج کے بعد پھر نہ آناورنہ ہلاک ہو جائے گا۔\\\'\\\' تو وہ شخص چلا گیا اور دس سال تک غائب رہا پھر وہ آیا اور ہم نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ\\\'\\\' میں نے شیخ کے حکم کے مطابق کیا پھر اب تک اس پر مرگی کا اثر نہیں ہوا۔\\\'\\\'
جھاڑ پھونک کرنے والوں کا مشترکہ بیان ہے: \\\'\\\'حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی مبارک میں چالیس برس تک بغداد میں کسی پر مرگی کا اثر نہیں ہوا، جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے وصال فرمایا تو وہاں مرگی کا اثر ہوا۔\\\'\\\'(المرجع السابق ،ص۱۴۰)

فَحُکْمِیْ نَافِذٌ فِیْ کُلِّ حَالٖ سے ہوا ظاہر
تصرف انس وجن سب پرہے آقاغوث اعظم کا
ہوئی اک دیوسے لڑکی رہااس نام لیواکی
پڑھاجنگل میں جب اس نے وظیفہ غوث اعظم کا