شیر کا بچہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 109 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



شیر کا بچہ پیدا ہوتے ہی ماں باپ سے بچھڑ گیا ، جب اس کی آنکھ کھلی تو اردگرد بکریوں کا ریوڑ تھا ؛ وہ انھی میں پلا ، بڑھا ، جوان ہوا ۔
بکریوں کی صحبت نے اسے بکری بنادیا ؛ بکریوں کے ساتھ گھاس پھوس کھاتا ، بکریاں بھیڑیے کو دیکھ کر بھاگتیں تو یہ بھی بھاگ کھڑا ہوتا ۔
ایک دن ایک شیر چرا گاہ کی طرف آنکلا ، اُس نے جب اپنے ہم جنس کو بکریوں کے ساتھ چرتے دیکھا تو بڑا حیران ہوا اور حیرانی اس وقت مزید بڑھی جب اُسے دیکھ کربکریوں کے ساتھ یہ بھی بھاگ کھڑا ہوا ۔
شیر نے کہا یہ اصل میری ، نسل میری ، شکل میری ؛ اس کی عادتوں کو کیا ہوگیا!
ضرور اِسے بکریوں کی صحبت نے خراب کردیا ہے ۔
کیوں نہ اسے بتایا جائے کہ تو کون ہے ، کہاں سے آیا ہے ، کیوں آیا ہے ۔
شیر اس بچے کو کان سے پکڑکر پانی کے چشمے پر لے گیا اور کہا اندر جھانکو ۔
اس نے پانی میں جب اپنی شکل وصورت دیکھ لی تو شیرنے اس کے کان پر منھ رکھ کے گرج دار آواز نکالی ، جس نے اس کا دماغ کھول دیا ؛ اور اسے معلوم ہوگیا کہ میں کون ہوں ، کیا ہوں !!

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

چودہ اگست کومعرض وجود میں آنے والے اسلامی ملک کی فوج شیر کی اولاد تھی ، اس نے اصلی و نسلی شیر ( پاکستان ) کی کوکھ سے جنم لیا ، لیکن بکریوں ( امریکہ وبرطانیہ وغیرہ ) کے ریوڑ نے اس کے عادات و اطوار خراب کردیے ؛ یہ بھول گئی میں کون ہوں ، کیا ہوں !
اب کئی سالوں بعد خادم حسین رضوی نامی ایک شیر کا ادھرسے گزر ہوا ہے ، جو اِسے بدر وحنین کے چشمے پر کھڑا کرکے منھ دکھانا اورگرج دار آواز میں سمجھانا چاہتا ہے کہ تو کون ہے ، کیا ہے !!
اگر یہ سمجھ گئی توبھیڑیوں ( گستاخان رسول ) سے ڈر کر بھاگے گی نہیں ، بلکہ اِس کی گرج دار آواز ( بندوقیں ، میزائل ، جہاز ) گیرٹ ولڈرز جیسے بھیڑیوں کا پتاپانی کردے گی ۔

خدا کرے یہ سمجھ جائے !!
---
لقمان شاہد
https://www.facebook.com/qari.luqman.92