امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی المتوفیٰ ۵۹۷ ھـ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1890 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



نام ونسب :

آپ کالقب:جمال الدین ،کنیت:ابوالفرج اورنام ونسب:عبدالرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبداللہ بن حمادی بن احمد بن محمد بن جعفر الجوزی بن عبداللہ بن قاسم بن نضر بن قاسم بن محمد بن عبداللہ بن عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق خلیفہ المسلین خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطہ سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

ولادت وپرورش:

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۵۱۱ھ میں عرو س البلادبغداد شریف میں پیداہوئے۔ابھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تین سال کے تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد محترم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔والد کی وفات کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پھوپھی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پرورش کا ذمہ لیا اور خوب پیار و محبت سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پرورش کی ۔

تعلیم:

جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کچھ ہوش سنبھا لا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پھوپھی جان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس علاقے کے مشہور حافظ حضرت سیدنا ابوالفضل بن ناصر علیہ رحمۃ اللہ القادر کے پاس لے گئیں اور خواہش ظاہر کی کہ میرے بھتیجے کو حافظ بنادیں ، اُستاد کی جوہرشناس نگاہوں نے دیکھ لیا کہ یہ بچہ دینِ اسلام کا سر مایہ ہے اور اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مستقبل میں دینِ متین کی خوب خدمت کریگا ۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے حلقہ تلامذہ میں شامل فرمالیا۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی ذہانت ، محنت اوراستادکے اَدب واِحترام کی وجہ سے کلامِ مجید کو اپنے دل کے آبگینے میں سجالیااور بہت جلد حافظِ قرآن بن گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے درسِ حدیث کی ابتداء بھی حضرت سیدنا ابن ناصرعلیہ رحمۃاللہ القادر ہی سے کی اورانہی سے علم القرأۃ سیکھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علمِ فقہ اپنے زمانے کے مشہور حنبلی فقہیہ حضر ت ابوبکر دینوری حنبلی علیہ رحمۃاللہ القوی اور حضرت ابن الفراء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے علمِ ادب ولغت حضرت ابومنصور ابن جوالیقی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے
حاصل کیا۔ان کے علاوہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تقریباً 87اساتذہ کرام سے علمی استفادہ کیاجن میں ابو القاسم ھبۃ محمد بن عبدالواجد الشیبانی،ابو البر کات عبدالوہاب بن مبارک انما طی،ابن طبری،ابو الحسن ابن زاغوانی اور ابن عقیل رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ شامل ہیں۔

وعظ ونصیحت کاشوق :

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو وعظ ونصیحت اور بیان کرنے کا بہت شوق تھا ،اسی شوق کی بناء پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بہت چھوٹی عمر میں بیان کرنا شرو ع کردیا اور لوگ بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیان میں دلچسپی لینے لگے لیکن ابھی اس گو ہر نایاب کو تراشنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اُستاد ابن زاغوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جو اس زمانے کے مشہور واعظ تھے ،انہوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیان سکھایا اور ان کی زیرِ نگرانی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت جلد ایک بہت اچھے واعظ بن گئے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی سعی پیہم ، اورمشفق اُ ستاد ابوالحسن ابن زاغوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خصوصی شفقتوں اور خاص توجہ سے تقریباً 20سال کی عمر میں باقاعدگی سے وعظ فرمانے لگے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وعظ سننے دورو نزدیک سے لوگ آنے لگے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مستقل تربیتی اِجتماع شروع کردیا ۔ اس تر بیتی اِجتماع میں علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ، طلباء ، خلفاء، وزراء ، بڑے بڑے بادشاہ ، عوام اور ہر طر ح کے لوگ شامل ہوتے اور اپنی علمی وعملی پیاس بجھاتے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تربیتی اِجتماع میں لوگو ں کی تعداد تقریباً دس ہزار(10,000)تک ہوتی اور کبھی کبھی تواس اجتماع میں تعداد ایک لاکھ(1,00000)تک پہنچ جاتی ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت فصیح وبلیغ کلام فرماتے اور دورانِ بیان اشعار بھی پڑھتے ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان نصیحت آموز کلمات پر مشتمل ہوتا ، لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان سن کر آخرت کی تیاری کی طرف راغب ہوتے ، گناہ گار گناہوں سے تا ئب ہوجاتے، متقی وپر ہیز گار لوگوں کو مزید جذبہ ملتا، بے علموں کو علم وعمل کی دولت نصیب ہوتی ، بے سکونوں کو سکون ملتا۔
الغرض! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے دور کے عظیم مُبَلِّغ تھے اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انداز سب سے منفرد تھا،دورانِ بیان قرآن پاک کی آیتیں پڑھتے، تر غیب کے لئے واقعات بیان فرماتے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تربیتی اجتماع میں شریک ہونے والا خوب فیض یاب ہوتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دینِ اسلام کے ایک عظیم مُبَلِّغ تھے ۔

حد یث پاک سے محبت:

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو حدیثِ پاک سے بہت زیادہ محبت تھی۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پختہ ارادہ کرلیا کہ جب تک \\\'\\\'صحیح بخاری، صحیح مسلم ،جامع ترمذی، سُننِ ابو داؤد ، سُننِ نسائی ،سُننِ ابنِ ماجہ، مسندامام احمد ، طبقات ابن سعد،تاریخ الخطیب،حلیۃ الاولیاء ، ان کے علاوہ چند اور کتا بیں حفظ نہ کرلوں اس وقت تک مستقل علمِ حدیث حاصل نہیں کرو ں گا۔ چنانچہ
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تھوڑے ہی عرصے میں یہ ساری کتابیں زبانی یاد کرلیں ، اس کے بعد مستقل علمِ حدیث سیکھنا شروع کیا ۔

تصنیف وتالیف:

آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے علمِ قرآن ، علمِ حدیث ، علمِ فقہ ، جغرافیہ ، علمِ طِب، تاریخ ، تفسیر ، علمِ نجوم ، حساب ، لغت ، نحووغیر ہ کے علاوہ اور بہت سے علوم پر کتا بیں تصنیف فرما ئیں،آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بہت سی کتب ضائع ہوگئیں، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف کی تعداد 300بتائی جاتی ہے جن میں کئی تو مُجلَّد ہیں اور کچھ رسالے وغیر ہ ہیں ۔

آپ کی بعض تصانیف وتالیفات کے نام یہ ہیں:

(۱) اَحکام النساء (۲)اخائر الذخائر(۳)اخبارالاخبار(۴) اخبار اہل الرسوخ فی الفقہ والحدیث بمقدار المنسوخ(۵)اخبار البرامکۃ (۶) الاریب فی تفسیر الغریب(۷) اسباب الھدایۃ لارباب البد ایۃ(۸)اعمار الاعیان فی التاریخ والتراجم(۹) اعلام العالم بعد رسوخہ بحقائق ناسخ الحدیث ومنسوخہ(۱۰) الانصاف فی مسائل الخلاف(۱۱) بستان الصادقین(۱۲) بستان الواعظین وریاض السامعین(۱۳) التحقیق فی احادیث الخلاف(۱۴) تذکرۃ الخواص(۱۵) تذکرۃ المنتبہ فی عیون المشتبہ(۱۶) تلبیسِ ابلیس(۱۷) تلقیح فھوم الاثرفی التاریخ والسیر(۱۸) تیسیرالبیان فی تفسیرالقران(۱۹) جامع المسانید بالحصی الاسانید(۲۰) الجمال فی اسماء الرجال(۲۱) الخطا والصواب عن احادیث الشھاب(۲۲) الدر الثمین من خصائص النبی الامینصَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلیہِ وَ آلہٖ وَسَلَّمَ(۲۳) الدر الفائق بالمجالس والاحادیث الرقائق (۲۴) درۃ الاکلیل فی التاریخ (۲۵)الدلائل فی منثورالمسائل(۲۶) ذم الھوی(۲۷) الذھب المسبوک فی سیر الملوک(۲۸) الذیل علی طبقات الحنابلۃ (۲۹) الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید (۳۰) روح الارواح(۳۱)روضۃ المجالس ونزھۃ المستأنس(۳۲) روضۃ المریدین(۳۳) روضۃ الناقل(۳۴) زاد المسیرفی علم التفسیر(۳۶) زاھر الجواھر (۳۷)السّھم المصیب(۳۸) سیرۃ العمرین(۳۹) شذورالعقود فی تاریخ العھود(۴۰) شرف المصطفٰی(صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہ وَآلہٖ وَسَلَّمَ) (۴۱) شم الریاض(۴۲) صفوۃ الصفوۃ مختصرحلیۃ الاولیاء (۴۳) صید الخاطر(۴۴) عجالۃ المنتظر فی شرح حال الخضر (۴۵)العلل المتنا ھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ(۴۶) عیون الحکایات (۴۷)غوامض الھٰیات (۴۸) فضائل المدینۃ(۴۹) قصیدۃ فی الاعتقاد (۵۰) کتاب الاذکیاء (۵۱) کتاب الالقاب (۵۲) کتاب الحمقاء والمغفِّلین(۵۳)منھاج الوصول الی علم الاصول(۵۴) النور فی فضائل الایام والشھور(۵۵) الواھیات(ثلاث مجلدات)(۵۶) الوفا فی فضائل المصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلیہِ وَ آلہٖ وَسَلَّمَ

آپرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد:

آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے تین صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں تھیں۔صاحبزادوں کے نام یہ ہیں،عبد العزیز، ابوالقاسم علی اورمحی الدّین یوسف رحمہم اللہ تعالیٰ ۔سب سے بڑے صاحبزادے حضرت سیدنا عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید عالم ِشباب ہی میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے ،اس وقت حضرت سیدنا عبدالرحمن ابن جوزی علیہ رحمۃاللہ القوی کی عمر تقریباً 40سال تھی۔ جبکہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے حضرت سیدنا محی الدین یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بھی آپ جیسی خوبیاں پائیں اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعدوہ وعظ وبیان فرماتے ،ان میں اپنے والدِ محترم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہکا رنگ نظر آتا اور لوگ ان کا بیان بھی بڑی تو جہ اور اِہتمام سے سنتے ۔

عشقِ رسول صلی اللہ تعا لی عليہ وسلم :

آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نبئ مکرّم،نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آد م صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سچے عاشق تھے، جب ا ۤپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حدیث لکھتے توطہارت وپاکیزگی کابہت اِہتمام فرماتے اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بیٹھتے۔ جس قلم سے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حدیثِ پاک لکھتے اس پر لگی سیاہی کو جمع فرماتے رہتے اور اسے بڑے اَدب واِحترام سے رکھتے اور فرماتے :\\\'\\\'جب مَیں مرجاؤ ں تو جس پانی سے مجھے غسل دو اس میں یہ سیاہی ڈال دینا، مجھے اللہ عزوجل سے اُمید ہے کہ جس سیاہی سے مَیں نے اس کے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی احادیثِ مبارکہ لکھی ہیں وہ بابر کت سیاہی جب میرے جسم سے لگے گی تو ضرور میری مغفرت ہو جائے گی،جس سیاہی سے مَیں نے اپنے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا نامِ نامی لکھا جب وہ میرے جسم کو چُھولے گی تواُسے جہنم کی آگ ہر گز نہ چھوئے گی اور نامِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت سے مَیں قبر وآخرت کے عذاب سے محفو ظ رہوں گا۔ \\\'\\\'
آقا کا گدا ہوں اے جہنم! توبھی سن لے وہ کیسے جلے جو کہ غلام مدنی ہو

وِصال پُر مَلال:

آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے 597؁ہجری بر وز ہفتہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آخری تربیتی اِجتماع منعقد کیا جس میں کثیر افراد نے شرکت کی اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیمار ہوگئے اور 597؁ہجری 12رمضان المبارک مغرب اور عشاء کے درمیان دینِ اِسلام کا یہ عظیم محدّث و مُبَلِّغ اس دنیا ئے فانی میں اپنی دنیوی زندگی کے 87سال گزار کر دائمی و اُخروی منزل کی طر ف کوچ کر گیا اور گُلشنِ اسلام میں ایک اور گُل کی کمی ہوگئی لیکن اس گُل کی خوشبوؤں سے آج بھی عالمِ اسلام مُعَطَّر ومعَنبر ہے، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اسلام کا بہت بڑا سرمایہ تھے، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے وقت لوگو ں کی حالت بہت عجیب تھی ،ہر آنکھ پُر نم تھی اور ہر دل غمزدہ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی رو ح ہزاروں لوگو ں کو روتا ہوا چھوڑ کرعالمِ بالاکی طر ف پرواز کر گئی، یہاں دنیا میں لوگ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی جدائی سے غمگین وپریشان تھے اور عالمِ بالا میں آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اِستقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آمد پر خوشی و مسرت کاسماں تھا۔
عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا فر ش سے ماتم اٹھے وہ طیب وطاہر گیا
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے جنازہ میں بہت زیادہ لوگ شریک ہوئے ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی نماز جنازہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے ابوقاسم علی علیہ رحمۃاللہ القوی نے پڑھائی اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو حضرت سیدناامام احمد بن حنبلرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا، لوگو ں نے کئی راتیں مسلسل آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبرِ اَطہر پر قرآن خوانی کی، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے وصیت فرمائی تھی کہ جب میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوجاؤں تو میری قبر پر یہ اَشعار لکھ دینا ، چنانچہ بمطابق وصیت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر پر مند رجہ ذیل اشعار لکھے گئے :

یَاکَثِیْرَ الْعَفوِ یَامَنْ کَثُرَتْ ذَنْبِیْ لَدَیْہِ
جَآءَ کَ الْمُذْنِبُ یَرْجُوْالصَّفْحَ عَنْ جُرْمِ یَدَیْہِ
اَنَا ضَیْفٌ وَجَزآءُ الضَّیْفِ اَلْاِحْسَانُ اِلَیْہِ

ترجمہ :اے بہت زیادہ عفو ودرگزر فرمانے والے پرورد گار عزوجل ! اے بزرگ وبرتر مالک! میرے گناہ بہت زیادہ ہیں ۔
اے (رحیم وکریم) پروردگار عزوجل! تیرا گناہ گار بندہ تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش کی آس لگائے حاضر ہے۔
اے (مُنْعِمِ حقیقی) مَیں( تیرا)مہمان ہوں اور مہمان کی جزاء یہی ہے کہ اس پر احسان کیا جائے (لہٰذا اے میرے مہربان رب عزوجل! مجھ پر احسان فرما اور مجھے بخش دے )۔

؎تُوبے حساب بخش کہ ہیں بے حساب جرم دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا
بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفار ہے تیرا یا رب عزوجل

(ماخوذ از بستان الواعظین وریاض السامعین ،ذم الھوٰی، عیون الحکایات،سیر اعلام النبلاء)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)