حضرت سیدناربیع بن خُثیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1557 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:٭حضرت سیدنا ربیع بن خثیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت بلند مرتبہ بزرگ تھے۔ جب ان کو فالج کا مرض لاحق ہوا تو ان سے کہا گیا:٭ حضور: اگر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ چاہیں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا علاج کیا جاسکتا ہے۔٭یہ سن کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ٭بیشک علاج حق ہے ، لیکن عاد وثمود کیسی بڑی بڑی قومیں تھیں، ان میں بڑے بڑے ماہر طبیب تھے ، اور ان میں بیماریاں بھی تھیں، ا ب نہ تو وہ طبیب باقی رہے نہ ہی مریض۔٭ اسی طرح جب آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے یہ پوچھا جاتا :٭ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ لوگو ں کو وعظ ونصیحت کیوں نہیں کرتے؟٭ توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جو اباً ارشاد فرماتے: ٭ـابھی تو مجھے خود اپنی اصلاح کی ضرورت ہے ،پھر میں لوگوں کو کیسے نصیحت کروں؟انہیں کیسے ان کے گناہوں پر ملامت کروں؟٭ بے شک لوگ اللہ عزوجل سے دو سرو ں کے گناہوں کے بارے میں تو ڈرتے ہیں لیکن اپنے گناہوں کے بارے میں اس سے بے خوف ہیں ۔٭
جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا جاتا:٭ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے صبح کس حال میں کی؟٭تو ارشاد فرماتے:٭ ہم نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے آپ کو کمزور اور گناہ گار پایا، ہم اپنے حصے کا رزق کھاتے ہیں اور اپنی موت کے انتظار میں ہیں ۔٭
حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں:٭ جب حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا ربیع بن خثیم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھتے تو سورہ حج کی آیت مبارکہ کایہ حصہ ٭وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ٭ تلاوت کرتے اور فرماتے:٭ اے ربیع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ! اگر تجھے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دیکھتے تو تجھ سے بہت خوش ہوتے۔٭
حضرت سیدنا ربیع بن خثیم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اکثر اپنے آپ کومخاطب کرکے فرمایا کرتے: ٭اے ربیع! اپنا زاد راہ باندھ لے اور سفرِآخرت کی خوب تیار ی کرلے، اور سب سے پہلے اپنی اصلاح کراور اپنے نفس کو خوب نصیحت کر۔ ٭
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)