حضرتِ سیِّدُنا ضیا ء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1803 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرتِسیِّدُنا قطبِ مدینہ کی ولادتِ باسعادت ۱۲۹۴؁ھ ،۱۸۷۷؁ء میں پاکستان کے شہرضیاء کوٹ (سیالکوٹ)میں بمقام کلاس والا ہوئی۔ ’’یاغفورُ‘‘ سے سِنِ وِلادت نکلتا ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔
------------------------------

ابتدائی تعلیم ضیاء کوٹ میں حاصِل کی پھر مرکزالاولیاء (لاہور) اور دہلی میں کچھ عرصہ تَحْصِیلِ علم کیا بِالآخِر پیلی بِھیت(یوپی انڈیا) میں حضرتِ علامہ مولیٰنا وَصی احمد مُحَدِّث سُورتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تقریباً چار سال رہ کر عُلُوم دِینیہ حاصِل کئے اور دَورۂ حدیث کے بعد سَنَدِ فَراغَت حاصِل کی۔
------------------------------

زَہے قسمت امامِ اَہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دستِ مبارَک سے سیِّدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دستار بندی فرمائی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے امامِ اَہلسنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت بھی کی اور صِرْف ۱۸ سال کی عُمر میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سَنَدِ خلافت بھی پائی۔

؎ کلی ہیں گلستانِ غوث الوریٰ کی
یہ باغ رضا کے گُلِ خوشنما ہیں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
------------------------------

کراچی تا بَغداد

۱۳۱۸؁ھ (۱۹۰۰؁ئ) میں تقریباً ۲۴ سال کی عُمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے پیر و مرشِدامامِ اَہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رخصت ہوکر باب المدینہ( کراچی) تشریف لائے۔ کچھ عرصہ کراچی میں گزار کر حُضُورِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خُصُوصی فُیُوض و بَرَکات حاصِل کرنے کیلئے بَغدادِ مُعلّٰی وارِد ہوئے ۔ وہاں تقریباً چار برس اِسْتِغْراق کی کیفیت رہی اور مَجذْوب رہے۔ بَغداد شریف میں ۹ برس اور کچھ ماہ قِیام رہا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
------------------------------

روزانہ محفِلِ میلاد

ٍ حضرتِ قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے جُنون کی حد تک عشق تھا بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالی ٰعلیہ فَنافی الرَّسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے منصب پر فائز تھے۔ ذِکرِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی آپ کا روزو شبانہ مَشغَلہ تھا ۔اکثر زیارت کیلئے آنے والے سے اِسْتِفسار فرماتے ، آپ نعت شریف پڑھتے ہیں ؟ اگر وہ ہاں کہتا تو اُس سے نعت شریف سَماعت فرماتے اور خوب مَحظُوظ ہوتے ، بارہا جذباتِ تاثر سے آنکھوں سے سَیلِ اشک رواں ہوجاتا، روزانہ رات کو آستانہ عالیہ پر محفلِ میلاد کا انعقاد ہوتا۔ جس میں مَدَنی، تُرکی، پاکستانی، ہندوستانی، شامی، مصری، افریقی، سوڈانی، اور دنیا بھرسے آئے ہوئے زائرین شرکت کرتے۔
امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ فرماتے ہیں اَ لَْحَمْدُ للّٰہِ عَزّوَجَلَّ مجھے بھی کئی بار اُس مقدس محفِل میں نعت شریف پڑھنے کا شَرَف حاصِل ہوا ہے میں نے ایک خاص بات قطبِ مدینہ کی محفِل میں یہ دیکھی کہ حُضور اختِتام پر (بطورِ تَواضُع) دُعا نہیں فرماتے تھے بلکہ کسی نہ کسی شریکِ محفِل کو دُعاکا حکم فرمادیتے ۔ دُعاکے بعد روزانہ لازِمی لنگر شریف بھی ہوتا تھا۔

؎ راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
جینے میں یہ جینا ہے کیا بات ہے جینے کی

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
------------------------------

طَمْع نہیں ، مَنْع نہیں اور جمع نہیں

حضرتِ قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک کریمُ النَّفس اور شریف الفِطرت بُزرگ تھے ان کی قُربت میں اُنس و محبَّت کے دریا بہتے تھے اور سلف صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سخی اور بَہُت عطا فرمانے والے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے، طَمْع نہیں ، مَنْع نہیں اور جمع نہیں (یعنی لالچ مت کرو کہ کوئی دے اور اگر کوئی بِغیر مانگے دے تو منع مت کرو اور جب لے لو تو جمع مت کرو) جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کوئی عِطر پیش کرتا تو خوش ہوکر اُسے اِس طرح دعا دی تیعَطَّرَاللہُ اَیَّامَکُم یعنی اللہ عَزّوَجَلَّ تمہارے اَیّام مُعَطّر (خوشبودار) کرے۔
آپ کو شَہنشاہِ اُمم ، سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حُضُورِ سیِّدُنا غوثُ الْاَعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے حد الفت تھی ایک بار فرمانے لگے، کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

؎
بعد مُردَن روح و تن کی اس طرح تقسیم ہو
روح طیبہ میں رہے لاشہ مِرا بغداد میں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
------------------------------

وِصال

۴ ذُوالحجۃ الحرام ۱۴۰۱؁ھ 2-10-81 بروز جمعۃ المبارک مسجِدِ نَبَوِیِّ الشَّریف علیٰ صاحِبَہا الصَّلوٰ ۃُ وَالسَّلام کے مُؤَذِّن نے ’’ اللہُ اَکبَرْ،اللہُ اَکبَرْ‘‘ کہا اور سیِّدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے کَلِمہ شریف پڑھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی روح قَفَسِ عُنْصَری سے پرواز کر گئی۔ بعدِ غسل شریف کفن بچھا کر سرِ اقدس کے نیچے سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حُجرہ مَقصورہ شریف کی خاک مبارَک رکھی گئی۔ آمِنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دلبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قبر انور کا غُسّالہ شریف اور مختلف تبرُّکات ڈالے گئے۔ پھر کفن شریف باندھا گیا۔ بعد نمازِ عَصْر دُرود و سلام اور قصیدہ بُردہ شریف کی گُونج میں جنازہ مبارکہ اُٹھایاگیا۔

؎
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
محبوب کی گلیوں میں ذرا گھوم کے نکلے

بِالآخِر بے شمار سوگواروں کی موجودگی میں سیِّدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ان کی آرزو کے مطابِق جنّتُ البقیع کے اُس حصے میں جہاں اہلبیتِ اطہار علیہم الرضوان آرام فرماہیں وَہیں سیِّدۃُ النِّساء فاطِمۃُ الزَّہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار پُر انوار سے صِرف دو گز کے فاصلے پر سِپُردِ خاک کیا گیا۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
=========================
ماخوذ از :شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ