حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1594 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :٭ حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے خاندان والوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مجنون سمجھا ہوا تھا، اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے اپنے گھروں کے قریب کمرہ بنا یاہوا تھا۔ دودوسال گزر جاتے لیکن گھر والے آپ کی طر ف تو جہ نہ دیتے، نہ ہی آپ کی خبر گیری کرتے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی گزر بسر اس طر ح کرتے کہ کھجور کی گٹھلیاں چنتے ، شام کو انہیں بیچتے اور ان کے بدلے جو رَدِّی کھجور یں وغیرہ ملتیں انہیں افطاری کے لئے رکھ لیتے (اور انہیں کھا کر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتے )
جب حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ خلیفہ بنے، توایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کے اجتماع میں فرمایا: ٭اے لوگو ! کھڑے ہوجاؤ ۔٭ حکم پاتے ہی تمام لوگ کھڑے ہوگئے ۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ٭ قبیلہ ُمراد کے لوگو ں کے علاوہ سب بیٹھ جائیں۔٭(چند لوگوں کے علاوہ) سب بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: ٭تم میں سے ٭قبیلہ قرن٭کے لوگ کھڑے رہیں باقی سب بیٹھ جائیں ۔٭ایک شخص کے علاوہ سب بیٹھ گئے، یہ کھڑا ہونے والا شخص حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا چچا تھا ۔
امیر المؤ منین حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ان سے پوچھا :٭کیاآپ ٭قبیلہ قرن ٭کے رہنے والے میں ا؟٭ انہوں نے عرض کی :٭جی ہاں !میں٭ قرن ٭ہی کا رہنے والاہوں۔٭ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :٭کیا آپ اویس قرنی کو جانتے ہيں ؟٭ اس نے جواب دیا:٭ حضور! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس اویس( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے متعلق سوال کررہے ہیں وہ تو ہمارے ہاں احمق مشہور ہے، وہ اس لائق کہاں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے متعلق استفسار فرمائیں ،وہ توپاگل و مجنون ہے ۔٭
یہ سن کرآپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ رونے لگے، اور فرمایا:٭ میں اُس پر نہیں بلکہ تم پر رو رہاہوں،میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٭اللہ عزوجل اُویس قرنی کی شفاعت سے٭ قبیلہ ربیعہ٭ اور ٭قبیلہ مضر٭ کے برابر لوگو ں کوجنت میں داخل فرمائے گا ۔ ٭

(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث۴۳۲۳،ص۲۷۴۰)
(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما ذکر فی اویس القرنی، الحدیث۱،ج۷،ص۵۳۹)

حضرت سیدنا ہرم بن حیان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں:٭ جب مجھ تک یہ حدیث پہنچی تو میں فوراً ٭کو فہ٭ کی طر ف روانہ ہوا ۔میرا وہاں جانے کا صرف یہی مقصد تھا کہ حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی زیارت کرلو ں،اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہوسکوں۔٭ کوفہ ٭ پہنچ کرمیں انہیں تلاش کرتا رہا۔ بالآخر میں نے انہیں دوپہر کے وقت نہرفرات کے کنارے وضوکرتے پایا ۔ جو نشانیاں مجھے ان کے متعلق بتائی گئی تھیں ان کی وجہ سے میں نے انہیں فوراً پہچان لیا ۔
ان کا رنگ انتہائی گندمی ،جسم دبلا پتلا،سر گرد آلوداور چہرہ انتہائی بارعب تھا۔ میں نے قریب جاکر انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا، اور میری طرف دیکھا۔ میں نے فوراً مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا لیکن انہوں نے مصافحہ نہ کیا۔میں نے کہا : ٭اے اویس (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیسے ہیں؟ ٭ان کو اس حالت میں دیکھ کراور ان سے شدید محبت کی وجہ سے میری آنکھیں بھر آئیں اور میں رونے لگا۔ مجھے روتا دیکھ کر وہ بھی رونے لگے ۔
اور مجھ سے فرمایا:٭ اے میرے بھائی ہرم بن حیان (علیہ رحمۃاللہ المناّ ن )!اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیسے ہیں ؟ اورمیرے بارے میں اپ کوکس نے بتا یا کہ میں یہاں ہوں؟ ٭میں نے جواب دیا:٭اللہ عزوجل نے مجھے تمہاری طر ف راہ دی ہے۔٭
یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے٭ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ ٭اور٭ سُبْحٰنَ اللہِ ٭کی صدائیں بلند کیں،اور فر مایا:٭بے شک ہمارے رب عزوجل کا وعدہ ضرور پورا ہونے والا ہے ۔٭
پھر میں نے ان سے پوچھا :٭آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو میرااور میرے والد کا نام کیسے معلوم ہوا؟ ٭حالانکہ آج سے پہلے نہ کبھی میں نے آپ کو دیکھا اور نہ ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے دیکھا۔٭
یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ٭مجھے میرے علیم وخبیرپروردگار عزوجل نے خبردی ہے۔ اے میرے بھائی ھر م بن حیان(علیہ رحمۃاللہ المناّ ن )! میری روح تیری روح کو اس وقت سے جانتی ہے جب (عالمِ ارواح) میں تمام روحوں کی آپس میں ملاقات ہوئی تھی ۔بے شک بعض مؤمن اپنے بعض مؤمن بھائیوں کوجانتے ہیں اور وہ اللہ عزوجل کے حکم سے ایک دوسرے سے اُلفت ومحبت رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی بظاہرملاقات نہ ہوئی ہو،اگرچہ وہ ایک دوسرے سے بہت دور رہتے ہوں۔
پھر میں نے ان سے کہا :٭اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،مجھے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کوئی حدیث سنائیے۔٭یہ سن کر انہوں نے فرمایا: ٭آپ پر میرے ماں باپ قربان! مجھے نہ تو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی صحبت با برکت نصیب ہو ئی ا ور نہ ہی میں ان کی زیارت سے مشرف ہوسکا ،ہاں! اتنا ضرور ہے کہ میں نے ان عظیم ہستیوں کی زیارت کی ہے جن کی نظریں میرے آقاو مولیٰ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والضّحی والے چہرے کی زیارت کرچکی ہیں ۔میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اپنے اوپر اس بات کا دروازہ کھولوں کہ لوگ مجھے محدث ، مفتی یا راوی کہیں، میں لوگوں سے دور رہنا چاہتاہوں اور اپنی اس حالت پر خوش ہوں۔٭
پھر میں نے ان سے کہا :٭ اے میرے بھائی! مجھے اللہ عزوجل کے کلام سے کچھ تلاوت ہی سنا دیجئے ، اور مجھے کچھ نصیحت فرمائیے تا کہ میں اسے یاد رکھوں ۔ بے شک میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے صرف اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔یہ سن کر حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے میرا ہاتھ پکڑا،اوراَعُوْذُ بِاللہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھ کر فرمایا: میرے رب عزوجل کا کلام سب کلاموں سے اچھا ہے ۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سورہ دخان کی یہ آیتیں تلاوت فرمائیں:

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿38﴾مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿39﴾ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیۡقَاتُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ40﴾یَوْمَ لَا یُغْنِیۡ مَوْلًی عَنۡ مَّوْلًی شَیْـًٔا وَّ لَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ41﴾اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪42﴾

ترجمہ کنزالایمان:اورہم نے نہ بنائے آسمان اورزمین اورجوکچھ ان کے درمیان ہے،کھیل کے طورپر۔ہم نے انہیں نہ بنایامگرحق کے ساتھ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں۔بے شک فیصلہ کادن ان سب کی میعاد ہے۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی، مگر جس پراللہ رحم کرے، بے شک وہی عزت والا مہربان ہے۔ (پ 25،الدخان: 38تا42)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ چند آیتیں پڑھیں پھر ایک زور دار چیخ ماری۔ میرے گمان کے مطابق شاید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے ہوش ہوگئے تھے، جب انہیں کچھ افاقہ ہوا تو فرمانے لگے:٭ اے ابن حیان!تیرا باپ فوت ہوچکا، عنقریب تو بھی اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔ پھر یا تو تیرا ٹھکانا جنت میں ہو گایا پھر معا ذ اللہ عزوجل جہنم میں ۔(اللہ عز وجل ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے)
اے ابن حیان علیہ رحمۃ اللہ المناّن!تیرا باپ حضرت سیدناآدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور تیری ماں ٭ حضرت سیدتناحوا٭ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا اس دنیا فانی سے جاچکے ، حضرات انبیاء کرام علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام حضرت سیدنا نوح ، حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ، حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ ،حضرت سیدناداؤ د علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام اور ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمبھی اس دنیا سے ظاہری پردہ فرما چکے ، خلیفہ اوّل امیرالمؤمنین حضر ت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی انتقال ہوگیا، اور میرے بھائی اور دوست خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی وصال ہوگیا۔ جب میں نے یہ سنا توفوراً کہا :٭حضور! یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیا فرمارہے ہیں؟ حضرت سیدنا عمر فارو ق ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ابھی حیات ہیں ،ان کا ابھی وصال نہیں ہوا۔٭ یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:٭ مجھے میرے پروردگار عزوجل نے خبردی ہے ، اورمیرا دل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے، عنقریب میں اور آپ بھی اس دنیا فانی سے رخصت ہوجائیں گے۔٭
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں درودوسلام کے گجرے نچھاور کئے اور آہستہ آواز میں دعائیں مانگنا شروع کردیں۔
پھر فرمایا:٭ میری ایک نصیحت ہمیشہ یاد رکھنا۔ کتاب اللہ عزوجل میں تمام احکامات آچکے ، تمام انبیاء کرام علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام اوراولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اس دنیا سے کوچ کرجانا ہمارے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے ۔ہمیشہ موت کو یاد رکھنا۔اپنے دل کودنیا میں نہ الجھانا اور جب تو یہاں سے اپنی قوم کے پاس جائے تو انہیں (عذابِ آخرت) سے خوب ڈرانا ، اور تمام لوگو ں کا خیر خواہ اور ناصح بن کر رہنا اور کبھی بھی جماعت سے دور نہ ہونا ، اگر تو مسلمانوں کی بڑی جماعت سے جدا ہوگیا ،تو توُ دین سے جدا ہوجائے گا ۔ تجھے معلوم بھی نہ ہوگا اور تو جہنم میں داخل ہوجائے گا ۔٭
پھر فرمایا:٭اے میرے بھائی! تو اپنے لئے بھی دعا کرنا اور مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھنا۔٭اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کرنے لگے :٭اے پرور دگار عزوجل! ہرم بن حیان کا گمان ہے کہ٭یہ مجھ سے تیری خاطر محبت کرتا ہے اور تیر ی رضاہی کی خاطرمجھ سے ملاقات کرنے آیا ہے ۔ یا اللہ عزوجل! مجھے جنت میں اس کی پہچان کرادینا ، اور جنت میں بھی میری اس سے ملاقات کرادینا ۔یا اللہ عزوجل! جب تک یہ دنیا میں باقی رہے اس کی حفاظت فرما ، اور اسے تھوڑی ہی دنیا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔یا اللہ عزوجل اسے جو نعمتیں تو نے عطا کی ہیں۔ان پر شکر کرنے والا بنادے ،ہماری طر ف سے اسے خوب بھلائی عطا فرما ۔٭
پھر مجھ سے فرمایا:٭ اے ابن حیان!تجھ پر اللہ عزوجل کی رحمت ہو اور خوب برکت ہو، آج کے بعد میں تجھ سے ملاقات نہ کرسکوں گا،بے شک میں شہرت کو پسند نہیں کرتا۔جب میں لوگو ں کے درمیان ہوتا ہوں تو سخت پریشان اور غمگین رہتا ہوں۔بس مجھے توتنہائی بہت پسند ہے۔آج کے بعد تو میرے متعلق کسی سے نہ پوچھنا۔ اور نہ ہی مجھے تلاش کرنا۔میں ہمیشہ تجھے یاد رکھوں گا، اگر چہ تم مجھے نہ دیکھو گے اور میں تجھے نہ دیکھ سکوں گا۔ میرے بھائی! تو مجھے یا در کھنا ،میں تجھے یا د رکھوں گا۔ میرے لئے دعا کرتے رہنا۔ اللہ عزوجل نے چاہا تو میں تجھے یاد رکھوں گا اور تیرے لئے دعا کرتا رہوں گا۔ اب تو اس سمت چلا جا اور میں دوسری طر ف چلا جاتا ہوں ۔
یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک طر ف چل دیئے۔ میں نے خواہش ظاہر کی کہ کچھ دُو رتک آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ چلوں، لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انکار فرمادیا، اور ہم دونوں روتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔
میں بار بار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مڑمڑ کر دیکھتا ،یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک گلی کی طر ف مڑگئے۔ اس کے بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوبہت تلاش کیا لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے نہ مل سکے، اور نہ ہی کوئی ایسا شخص ملا جو مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق خبر دیتا۔ہاں! اللہ عزوجل نے مجھ پر یہ کرم کیا مجھے ہفتے میں ایک ،دو مرتبہ خواب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت ضرور ہو تی ہے ،
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)))