حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2022 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرت سیدناعلقمہ بن مرثد رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے متعلق فرماتے ہیں:٭ہم نے حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی سے زیادہ غمگین کسی بھی شخص کو نہیں دیکھا، آپ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ ہر وقت غمگین و اداس رہتے ، اور فرما یا کرتے: ہم ہنستے ہیں او ر ہمیں اس بات کی فکر ہی نہیں کہ اگر (بر وزِ قیامت ) اللہ عزوجل نے ہمارے اعمال کے بارے میں یہ فرمادیا:٭ جاؤ تمہارا کوئی بھی عمل میرے نزدیک مقبول نہیں۔٭ ( تو ہمارا کیا بنے گا )
آپ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ فرمایا کرتے:٭ اے ابن آدم! تیری ہلاکت ہو، کیا تو اللہ عزوجل سے مقابلہ کرناچاہتا ہے ؟ہا ں !ہا ں ! جس نے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی گویااس نے اپنے پر وردگارعزوجل سے جنگ کی۔ خدا عزوجل کی قسم! میں ستّر(70) بدری صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملا ہوں، ان میں سے اکثر او ن کا لباس پہنتے ،اگرتم انہیں دیکھتے تو انہیں دیوانہ سمجھتے،اور اگر وہ تمہارے نیک و پرہیز گار لوگو ں کو دیکھ لیتے تو ان کے متعلق کہتے:٭ ان کے اندر کوئی قابل تعریف بات نہیں۔٭اوراگر وہ تمہارے گناہگاروں اور برے لوگو ں کو دیکھ لیتے تو ان کے متعلق فرماتے :٭ (ایسا لگتا ہے جیسے) ان لوگو ں کا آخرت پر ایمان ہی نہیں۔٭
پھر آپ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ نے فرمایا :٭خدا عزوجل کی قسم! میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے جن کے نزدیک دنیا کی وقعت
قدموں کی خاک جتنی بھی نہیں ، اور وہ ایسے عظیم لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کسی کو رات کے وقت تھوڑا سابھی کھانا ملتا تو کہتا: میں اکیلا یہ سارا کھانا نہیں کھاؤں گا بلکہ اس میں سے کچھ ضرور اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر صدقہ کر وں گا، حالانکہ خود ان کی ایسی حالت ہوتی کہ ان پر صدقہ کیا جائے ۔
حضرت سیدناعلقمہ بن مرثدرحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ فرماتے ہیں:٭جب حضرت سیدناعمر بن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ عراق کے گور نر بن کر آئے تو انہوں نے حضرت سیدناامام حسن بصری اور امام شعبی علیہما رحمۃاللہ الکافی کو اپنے پاس بلایا اور انہیں ایک گھر دے دیا جس میں آپ دونوں حضرات رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما تقریبا ًایک ماہ قیام فرما رہے۔ ایک دن صبح صبح ایک خادم ان کے پا س آیا اور کہا:٭ حضرت سیدنا عمر بن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ آپ سے ملاقات کے لئے آرہے ہیں ، اتنی ہی دیر میں حضرت سیدناعمربن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ اپنی لاٹھی سے سہارا لیتے ہوئے وہاں آپہنچے۔ آتے ہی سلام کیااور بڑے مؤدبا نہ انداز میں آپ دونوں حضرات رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہماکے سامنے بیٹھ گئے ۔
پھر(گورنرِ عراق) حضرت سیدنا عمربن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ نے کہا:٭یزید بن عبدالملک نے مجھے ایک خط بھیجا ہے جس میں کچھ احکام نافذ کرنے کا حکم دیاگیا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ ان احکام کے نفاذ میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اب اگر میں اس کی اطاعت کرتا ہوں تو اللہ عزوجل کی نافرمانی ہوتی ہے ، اور اگر اللہ عزوجل کی اطاعت کرو ں تو اس (یعنی یزید بن عبدالملک )کے حکم سے رو گر دانی ہو گی ،اب آپ حضرات ہی کوئی ایساطریقہ بتائیں کہ میں یزید بن عبدالملک کے حکم سے خلا صی پاجاؤں۔٭
یہ سن کرحضر ت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدناامام شعبی علیہ رحمۃاللہ الکافی سے فرمایا:٭ اے ابو عمر! تم ہی ان کے سوال کا جواب دو۔٭ حضرت سیدناامام شعبیعلیہ رحمۃاللہ الکافی نے کچھ اس طرح گفتگو کی:٭اے ابن ہبیرہ!تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تم یزید بن عبد الملک کی بات مان لو۔٭ یہ سن کر حضرت سیدناعمر بن ہبیرہ رحمۃااللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدناحسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کی طرف متو جہ ہوئے اور عرض کی:٭ حضور !آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟٭ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:٭امام شعبی علیہ رحمۃاللہ الکافی نے جو کچھ کہا وہ تو آپ سن چکے۔٭عر ض کی:٭ حضور! آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟٭
اما م حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ارشاد فرمایا:٭ اے ابن ہبیرہ! عنقریب اللہ عزوجل کے فر شتوں میں سے ایک فرشتہ تیرے پاس آئے گا،جوبہت مضبوط اور انتہائی کرخت لہجے والاہوگا۔وہ کبھی بھی اللہ عزوجل کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتا، پھر وہ تجھے تیرے خوبصورت و کشادہ محل سے نکال کر انتہائی تنگ و تاریک قبر میں پہنچا دے گا۔ اے ابن ہبیرہ !اگر تو اللہ عزوجل سے ڈرے گا تو وہ تجھے یزید بن عبد الملک کے شر سے محفوظ رکھے گا جبکہ یزید بن عبد الملک تجھے اللہ عزوجل کی پکڑ سے ہر گز نہیں بچا سکتا۔
اے ابن ہبیرہ ! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا ،اگر تو نے یزید بن عبدالملک کا کوئی ایسا حکم مانا جس میں اللہ عزوجل کے حکم کی نافرمانی ہو تو کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل تجھ پر نگاہِ غضب ڈالے اور مغفرت کے دروازے تجھ پر بندکر دے ۔
میری ملاقات اس امت کے سابقہ لوگو ں سے بھی ہوئی ہے۔ وہ دنیا سے اتنے ہی دور بھاگتے تھے جتنی تم اس کی خواہش کرتے ہو، حالانکہ دنیا ان کے قدموں میں گر تی تھی اور تم سے کوسو ں دور بھا گتی ہے۔ اے ابن ہبیرہ! اللہ عزوجل نے جس مقام سے تجھے ڈرایا ہے، میں بھی تجھے اس مقام سے ڈراتا ہوں ۔٭اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿14﴾

ترجمہ کنزالایمان:یہ اس لئے ہے جومیرے حضورکھڑے ہونے سے ڈرے اورمیں نے جوعذاب کاحکم سنایاہے اس سے خوف کرے۔ ( پ13، ابراہیم:14)
پھرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:٭ اگر تواللہ عزوجل کی اطاعت کریگا تو اللہ عزوجل تجھے یزید بن عبدالملک کے شرسے بچائے گا اور اگر تو یزید بن عبدالملک کی اطاعت اور اللہ عزوجل کی نافرمانی کریگاتو اللہ عزوجل تجھے یزید بن عبدالملک کے سپر د کر دے گا ۔٭
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ نصیحت آموز باتیں سن کر حضرت سیدنا عمر بن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ زار وقطار روتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
دو سرے دن حضرت سیدناعمربن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان دو نوں بزرگو ں کے لئے تحائف بھجوائے، حضرت سیدنا امام شعبی علیہ رحمۃاللہ الہادی کی نسبت حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے تحائف زیادہ تھے(حضرت سیدنا امام شعبیعلیہ رحمۃاللہ الہادی)مسجد کی طر ف روانہ ہوئے اور (تحائف دیکھ کر) کہا :٭اے لوگو! تم میں سے جو بھی اس بات پر قادر ہو کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کو دنیا داروں پر تر جیح دے تو اسے ضرور ایسا ہی کرنا چاہے ۔
اس پاک پر ورد گار عزوجل کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ایسا نہیں ہے کہ جس چیز کو حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ ا لقوی جانتے ہیں ،میں اس سے جاہل ہوں، بلکہ بات دراصل یہ ہے میں نے ابن ہبیرہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خوشنودی چاہی لیکن اللہ عزوجل نے مجھے اس سے دور کردیا(یعنی میں حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا )

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)