حضرت سیدناعامر بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1526 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



پھرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدناعامر بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کے متعلق بتایا:٭ حضرت سیدنا عامر بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو بہت خشو ع و خضوع سے نماز پڑھتے ۔ شیطان ان کو بہکانے کے لئے سانپ کی شکل میں آتا اور ان کے جسم سے لپٹ جاتا، پھر قمیص میں داخل ہو کر گریبان سے نکلتا ، لیکن آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نہ تو اس سے خوفزدہ ہوتے،نہ ہی اسے دور کرتے بلکہ انتہائی خشوع خضوع سے اپنی نماز میں مگن رہتے۔٭
جب ان سے کہا جاتا :٭ آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سانپ کو اپنے آپ سے دور کیوں نہیں کرتے؟کیاآپ کو اس سے ڈر نہیں لگتا؟٭تو آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے: ٭مجھے اس بات سے حیاء آتی ہے کہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے ڈروں ۔٭
پھر کسی کہنے والے نے کہا:آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جتنی محنت ومشقت کر رہے ہیں اس کے بغیر بھی تو جنت حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کے بغیر بھی جہنم کی آگ سے بچا جاسکتا ہے۔٭ توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:٭ اللہ عزوجل کی قسم !میں توخوب مجاہدات کرو ں گا اوردن رات اپنے رب عزوجل کی عبادت کروں گا ۔ اگر نجات ہوگئی تو اللہ عزوجل کی رحمت سے ہوگی، اور خدا نخواستہ جہنم میں گیا تو اپنی محنت ومشقت میں کمی کی وجہ سے جاؤں گا ۔٭
پھر جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کا وقت قریب آیا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ زار وقطاررونے لگے ۔لوگو ں نے پوچھا : ٭حضور! آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اتنا کیوں رورہے ہیں؟ کیا موت کا خوف آپ کو رلا رہا ہے؟٭توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ٭میں کیوں نہ روؤں ،کیا مجھ سے بھی زیادہ کوئی رونے کا حقدارہے ؟خدا عزوجل کی قسم! میں نہ توموت کے خوف سے رو رہاہوں ،نہ ہی اس بات پرکہ دنیا مجھ سے چھوٹ رہی ہے، بلکہ مجھے تو اس بات کا غم ہے کہ میری عبادت وریاضت، راتوں کا قیام اور سخت گرمیوں کے روزے چھوٹ جائیں گے، پھر کہنے لگے: اے میرے پاک پروردگار عزوجل! دنیا میں غم ہی غم اور مصیبتیں ہی مصیبتیں ہیں اور آخرت میں حساب و عذاب کی سختیاں پھر انسان کو آرام وسکون کیسے نصیب ہو؟٭
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)