گدھا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1641 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



یہ بھی انبیاء اور رسولوں کی سواری ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت میں بھی دو گدھے تھے،
ایک کا نام ٭عفیر٭اور دوسرے کا نام ٭یعفور٭تھا۔
روایت ہے کہ ٭یعفور٭ آپ کو خیبر میں ملا تھا اور اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کلام کیا تھا کہ یا رسول اللہ!میرا نام ٭ زیاد بن شہاب٭ہے اور میرے باپ داداؤں میں ساٹھ ایسے گدھے گزرے ہیں جن پر نبیوں نے سواری فرمائی ہے اور آپ بھی اللہ کے نبی ہیں لہٰذا میری تمنا ہے کہ آپ کے بعد دوسرا کوئی میری پشت پر نہ بیٹھے۔ چنانچہ اس چوپائے کی تمنا پوری ہو گئی کہ آپ کی وفات اقدس کے بعد ٭ یعفور ٭ شدتِ غم سے نڈھال ہو کر ایک کنوئیں میں گر پڑا اور فوراً ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔
یہ بھی روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ٭یعفور٭ کو بھیجا کرتے تھے کہ فلاں صحابی کو بلا کر لاؤ تو یہ جاتا تھا اور صحابی کے دروازہ کو اپنے سر سے کھٹکھٹاتا تھا تو وہ صحابی یعفور کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ حضور نے مجھے بلایا ہے چنانچہ وہ فوراً ہی یعفور کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہوجایا کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ادنیٰ کپڑا پہنے گا اور بکری کا دودھ دوہے گا اور گدھے کی سواری کریگا۔ اس میں بالکل ہی تکبر نہیں ہو گا۔
(تفسیر روح البیان،ج۵، ص۱۱، پ۱۴، النحل: ۸ )
======================
از: عَجَائِبُ القرآن
مع
غَرَائِبِ القرآن
مؤلف
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفٰی اعظمی
رحمۃ اللہ علیہ