حکایت نمبر 6: فضائلِ صدیق اکبربزبانِ مولیٰ علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہما NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1988 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرت سیدنا اُسیدبن صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:٭ جب حضر ت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کاوصال ہوا تومدینے کی فضا میں رنج وغم کے آثار تھے،ہر شخص شدَّتِ غم سے نڈھال تھا،ہر آنکھ سے اشک رواں تھے، صحابہ کرام علیہم الرضوان پر اسی طرح پریشانی کے آثار تھے جیسے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال ظاہری کے وقت تھے، سارا مدینہ غم میں ڈوبا ہواتھا۔پھر جب حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دینے کے بعد کفن پہنایاگیاتو حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تشریف لائے، اورکہنے لگے: آج کے دن نبی آخرالزماں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے خلیفہ ہم سے رخصت ہو گئے۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کھڑے ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:٭اے صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بہترین رفیق ، اچھے محب ،بااعتماد رفیق اورمحبوب خداعزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رازداں تھے۔ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ فرمایاکرتے تھے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے مؤمن ، ایمان میں سب سے زیادہ مخلص، پختہ یقین رکھنے والے اور متقی و پرہیزگار تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دین کے معاملات میں بہت زیادہ سخی اور اللہ کے رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سب سے زیادہ قریبی دوست تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سب سے اچھی تھی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامرتبہ سب سے بلند تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے لئے بہترین واسطہ تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اندازِخیر خواہی ،دعوت وتبلیغ کاطریقہ ، شفقتیں اور عطائیں رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرح تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بہت زیادہ خدمت گزار تھے۔ اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماور اسلام کی خدمت کی بہترین جزاء عطافرمائے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دینِ متین اور نبی ئکریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بہت زیادہ خدمت کی، اللہ عزوجل اپنی رحمت کے شایانِ شان آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جزاء عطافرمائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
جس وقت لوگوں نے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوجھٹلایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کی تصدیق فرمائی ،حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہر فرمان کو حق وسچ جانااور ہرمعاملے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تصدیق فرما ئی، اللہ عزوجل نے قرآ نِ کریم میں آپ کو صدیق کالقب عطافرمایا فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَالَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ ﴿33﴾

ترجمہ کنزالایمان:اوروہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔(پ24،الزمر :33)
اس آیت میں صَدَّقَ بِہ ٖسے مراد صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ یاتمام مؤمنین ہیں ۔
پھرحضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم نے مزید فرمایا:٭ اے صدیقِ اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ!جس وقت لوگوں نے بخل کیاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سخاوت کی ،لوگوں نے مصائب وآلام میں رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاساتھ چھوڑ دیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی صحبتِ با برکت سے بہت زیادہ فیضیاب ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان تویہ ہے کہ ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوثانی اثنین کالقب ملا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یارِغار ہیں ،اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سکینہ نازل فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ئکریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ہجرت فر مائی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رفیق وامین اور خلیفہ فی الدین تھے، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے خلافت کاحق اداکیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرتدوں سے جہادکیا، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصا لِ ظا ہری کے بعد لوگوں کے لئے سہارا بنے، جب لوگو ں میں اُداسی اور مایوسی پھیلنے لگی تو اس وقت بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوصلے بلند رہے۔لوگو ں نے اپنے اسلام کوچھپایالیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایمان کااظہار کیا،جب لوگوں میں کمزوری آئی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو تقویت بخشی،ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں سنبھالا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیشہ نبی کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنتوں کی اتباع کی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے خلیفہ بر حق تھے ،منافقین وکفار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوصلوں کو پست نہ کر سکے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفارکو ذلیل کیا،باغیوں پر خوب شدت کی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کفار ومنافقین کے لئے غیض وغضب کاپہاڑ تھے ۔ لوگوں نے دینی اُمور میں سستی کی لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بخوشی دین پرعمل کیا۔لوگوں نے حق بات سے خاموشی اختیار کی مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علی الاعلان کلمہ حق کہا،جب لوگ اندھیروں میں بھٹکنے لگے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ان کے لئے منارہ نور ثابت ہوئی۔ انہو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف رُخ کیااور کامیاب ہوئے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ ذہین وفتین،اعلیٰ کِردار کے مالک،سچے ،خاموش طبیعت،دور اَندیش، اچھی رائے کے مالک، بہادر اور سب سے زیادہ پاکیزہ خصلت تھے ۔
خداعزوجل کی قسم! جب لوگو ں نے دین اسلام سے دوری اختیار کی توسب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے اسلا م قبول کیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے سردار تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں پر مشفق باپ کی طرح شفقتیں فرمائیں، جس بوجھ سے وہ لوگ تھک کر نڈھال ہوگئے تھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سہارادیتے ہوئے وہ بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا۔ جب لوگوں نے بے پروائی کامظاہرہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قوم کی باگ ڈورسنبھالی ،جس چیزسے لوگ بے خبر تھے آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے جانتے تھے اورجب لوگوں نے بے صبری کامظاہرہ کیاتوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبرسے کام لیا۔ جوچیزلوگ طلب کرتے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عطا فر ما دیتے ۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیروی کرتے رہے اورکامیابی کی طرف بڑھتے رہے ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشوروں اورحکمت عملی کی وجہ سے انہیں ایسی ایسی کامیابیاں عطاہوئیں جو ان لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور مؤمنوں کے لئے رحمت ،شفقت اور محفوظ قلعہ تھے۔خداعزوجل کی قسم!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی منزلِ مقصودکی طرف پرواز کر گئے۔ اور اپنے مقصودکوپالیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کبھی غلط نہ ہوئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا،آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ بہت نڈرتھے ، کبھی بھی نہ گھبراتے گویا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جذبوں اور ہمتوں کا ایسا پہاڑ تھے جسے نہ تو آندھیاں ڈگمگاسکیں نہ ہی سخت گرج والی بجلیاں متزلزل کر سکیں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ با لکل ایسے ہی تھے جیسے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدن کے اعتبار سے اگرچہ کمزور تھے لیکن اللہ عزوجل کے دین کے معاملے میں بہت زیادہ قوی ومضبوط تھے۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ اپنے آپ کوبہت عاجز سمجھتے، لیکن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کارتبہ بہت بلندتھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کی نظروں میں بھی بہت باعزت و باوقار تھے۔ ٭
حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرما یا:٭آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اورنہ ہی کبھی لالچ کیا۔بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں پر بہت زیادہ شفیق ومہربان تھے، کمزوروناتواں لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک محبوب اورعزت وا لے ہو تے، اگر کسی مالدار اورطاقتور شخص پر ان کا حق ہوتا تو انہیں ضرور ان کاحق دلواتے۔ طاقت اورشان وشوکت والوں سے جب تک لوگوں کا حق نہ لے لیتے وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کمزور ہوتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک امیر وغریب سب برابر تھے، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مقرب ومحبوب وہ تھاجو سب سے زیادہ متقی و پرہیزگارتھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدق وسچائی کے پیکرتھے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافیصلہ اٹل ہوتا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مضبوط رائے کے مالک ا ور حلیم وبردبار تھے۔ خدا عزوجل کی قسم! آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم سب سے سبقت لے گئے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد والے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامقابلہ نہیں کر سکتے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سب کوپیچھے چھوڑ دیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی منزلِ مقصود کوپہنچ گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبہت عظیم کامیابی حاصل ہوئی ، (اے یارِغار!) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شان سے اپنے اصلی وطن کی طرف کوچ کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کے ڈنکے آسمانو ں میں بج رہے ہیں اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی جدائی کاغم ساری دنیاکورُلارہاہے ۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہٖ رَاجِعُوْنَ۔
ہم ہرحال میں اپنے رب عزوجل کے ہر فیصلے پر راضی ہیں ، ہر معاملے میں اس کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدا ئی کا غم مسلمانوں کے لئے سب سے بڑاغم ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات اہل اسلام کے لئے عزت کا باعث بنی ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑاسہارا اورجائے پناہ تھے۔ اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں بنائی۔ اللہ عزوجل ہمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اچھا اجر عطا فرمائے، اورہمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد صراطِ مستقیم پرثابت قدم رکھے۔ اور گمراہی سے بچائے ۔٭(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
لوگ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا کلام خاموشی سے سنتے رہے۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی اختیار کی تو لوگوں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا اور سب نے بیک زبان ہوکر کہا، اے حیدرِ کرَّار!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بالکل سچ فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بالکل سچ فرمایا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)