عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلب و مقصد کیا ہے ؟ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah
We are updating NafseIslam, so you might experience some issues. We are sorry for the incovenience caused.

This Article Was Read By Users ( 4613 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمداللہ رب العلمین
والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین
\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\"عید کا لفظی مطلب ہوتا ہے خوشی کرنا ، اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلب ہے نبی کی پیدائش، تو مطلب یہ ہوا کہ نبی رحمت ، شفیع امت ،حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیدا ہونے کی خوشی کرنا۔

علماۓ کرام فرماتے ہیں کہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت رونما ہونے والے معجزات کا بیان کرنا، نور محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرامات بیان کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شیر خورگی کے حالات بیان کرنا ، حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پرورش کے واقعات اور جن برکتوں کا ظہور ہوا وہ بیان کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ بیان کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا بیان کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل و خصائل بیان کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مقدسہ بیان کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے جو ہمیں اسلام کی عظیم دولت ملی اس پر اللہ رب العلمین کا شکر ادا کرنا اور یہ سب چاہے نثر میں بیان کریں یا نظم میں، کھڑے ہو کر کریں یا بیٹھ کر، تنہا کریں یا مجلس میں ہر صورت میں میلاد کہا جاۓ گا۔\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\"

عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک مہینہ تو کیا آتا ہے کہ ہر طرف خوشیوں کی بہار آجاتی ہے ، دل جھوم اٹھتا ہے ، دماغ مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی مبارک گھڑیوں کو سوچ سوچ کر معطر ہو رہا ہوتا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت رونما ہونے والے عجائبات کا تصور کرتے ہی دل سے اک صدا نکلتی ہے کہ
جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نا مرادی کے دن لکھے تھے

عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں گھروں کو سجایا جا رہا ہے ، گلیوں کو سجایا جا رہا ہے ، گھروں پر ،شاہراہوں پر، گلی محلوں میں پرچم نصب کیے جا رہے ہیں ۔۔ہر کو ئی اپنی بساط کے مطابق کر رہا ہے ۔ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟ کیوں کہ یہ جان کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری کا دن ہے ، کیوں کہ یہ ظلمت کدوں کے مٹنے کا دن ہے کیوں کہ یہ نور اسلام کے پھیلنے کا دن ہے کیونکہ یہ دلوں کی تطہیر کا دن ہے کیونکہ یہ شیطان ابلیس کی شیطانی چالوں کے ختم ہو جانے کا دن ہے ،( ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ جس رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی شیطان ابلیس چیخا ،چلایا، رویا اور سر پر مٹی ڈال رہا تھا کہ ہاۓ میری سلطنت ختم ہو گئی )
خیر ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری کر رہا ہے ، خالق کائنات نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں کائنات کو سجایا ، جبریل امین علیہ سلام کو بھیج کر بام کعبہ پر اور مشرق و مغرب میں جھنڈے نصب کرواۓ ، ستاروں کو خوب روشن کیا ، جانوروں کو قوت گویائی دی جو اس رات ایک دوسرے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مبارک باد اور خوشخبری دے رہے تھے ۔ کعبہ شریف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ پر اتنا خوش تھا کہ وجد میں آگیا اور اس میں پڑے بت منہ کے بل گر پڑے۔گویا کہ ایک پیغام تھا کہ شیطان کی عبادت ختم ہو گئی اور وہ ذلیل ہو گیا۔اور اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت ہو گی اب-
خوشی کے بادل امنڈ کے آۓ دلوں کے طاؤس رنگ لاۓ
وہ نغمہ نعت کا سماع تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

گویا کہ آج مسلمان اپنے گھروں کو سجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے کر اللہ کی سنت پر عمل کرتے ہیں – محافل میلاد کا انتظام کیا جاتا ہے گویا کہ سنت صحابہ علیھم الرضوان ادا کی جا رہی ہے ۔ایک وہ وقت تھا جب صحابی رسول تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد شریف منبر اقدس پر کھڑے ہو کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کی مجلس میں آقاۓ دو جہان کی موجودگی میں بیان کر رہے ہیں ذرا ان کے الفاظ تو ملاحظہ فرمائیں کیسے دل میں خوشیوں کے پھول مہکتے ہیں۔

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ!
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ
یعنی یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔

خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِّنْ کُلِ عَیْبٍ!
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ
یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

ذرا ایمان کی انکھوں سے تصور تو کریں محفل میلاد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اور صحابی میلادنامہ پڑھنے والے اور صحابہ سننے والے ۔۔۔۔۔ کتنی خوبصورت اور حسین محفل ہو گی گویا کہ چاند کی تعریف و توصیف تاروں کے جھرمٹ میں ۔۔ شاید اعلی حضرت امام اہل سنت نے یہ شعر اسی محفل کی ترجمانی میں لکھا ہو کہ
سعدین کا قران ہے پہلوۓ ماہ میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے

خاص عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھتے ہیں گویا کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادا کر رہے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا یوم ولادت ہر پیر شریف کو روزہ رکھ کے مناتے تھے اور فرماتے تھے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھے نبوت ملی۔

عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اس دن جلوس کا اہتمام کرتے ہیں تو گویا اس یاد کو تازہ کرتے ہیں جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شریف ہجرت کر کے تشریف لاۓ تو صحابہ کرام علیھم ارضوان نے جلوس کی صورت میں آپ کا استقبال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلے
اور
اس کے علاوہ جلوس کا مقصد کفار پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و شوکت کا اظہار کرنا اور ان پر اسلام کا رعب بٹھانا ہے۔

جلوس میلاد میں جو نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھی جاتی ہیں ‎ اور درود و سلام کی کثرت کی جاتی ہے
وہ گویا کہ ہجرت مدینہ کا وہ منظر آنکھوں میں لاتی ہیں جب بنو نجار کی بچیاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر جوشِ مسرت میں جھوم جھوم کر اور دف بجا بجا کر یہ گیت گاتی تھیں

طَلَعَ لْبَدْرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع
وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا
مَا دَٰعی لِلّٰہِ دَاعِی
ہم پر چاند طلوع ہو گیا و داع کی گھاٹیوں سے، ہم پر خدا کا شکر واجب ہے۔ جب تک اﷲ سے دعاء مانگنے والے دعا مانگتے رہیں۔

اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا
جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْمُطَاع
اَنْتَ شَرَّفْتَ الْمَدِیْنَۃَ
مَرْحَبًا یَاخَیْرَ دَاعٖ
اے وہ ذات گرامی! جو ہمارے اندر مبعوث کئے گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم وہ دین لائے جو اطاعت کے قابل ہے آپ نے مدینہ کو مشرف فرمادیا تو آپ کے لیے \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'خوش آمدید\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'ہے اے بہترین دعوت دینے والے۔

فَلَبِسْنَا ثَوْبَ یَمَنٍ
بَعْدَ تَلْفِیْقِ الرِّقَاعٖ
فَعَلَیْکَ اللہُ صَلّٰی
مَا سَعیٰ لِلّٰہِ سَاعٖ
توہم لوگوں نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر کپڑے پہنا کرتے تھے تو آپ پر اﷲ تعالیٰ اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔ جب تک اﷲ کے لئے کوشش کرنے والے کوشش کرتے رہیں۔

نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِی النَّجَّارٖ
یَاحَبَّذا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٖ
ہم خاندان \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'بنو النجار\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\' کی بچیاں ہیں، واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہو گئے۔
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے جوش مسرت اور ان کی والہانہ محبت سے متاثر ہو کر پوچھا کہ اے بچیو! کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ تو بچیوں نے یک زبان ہو کر کہاکہ \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'جی ہاں! جی ہاں۔\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\' یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\'

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ جب محفل میلاد اتنی با برکت اور صحابہ کرام بلکہ خود رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ہے تو کچھ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس مبارک میلاد کی محفل کے اہتمام کو آج برا کیوں کہتے ہیں ۔ اور اس کو روکنے کے در پر کیوں ہیں ، کبھی ولادت کے دن میں اختلاف ظاہر کر کے اور کبھی وفات شریفہ کا کہہ کر ۔۔۔ ۔۔ اگر واقعی ان کا مقصد صحیح دن کا تعین کرنا ہوتا تو ضرور وہ بھی محافل میلاد کا اہتمام کرتے اور عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن مناتے خواہ وہ اپنے تصحیح کردا دن پر ہی کیوں نہ کرتے ۔۔۔۔ مگر ان کے پیٹ میں درد اور ہے ۔۔۔ وہ درد یہ ہے کہ چونکہ شیطان نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پر اپنے سر میں خاک ڈالی تھی اور خوب رویا اور چیخا چلایا تھا تو یہ بھی شیطان کے عمل کو دہراتے ہیں کیونکہ زمانے کا دستور یہی ہے کہ بیٹا باپ کا جانشین ہوتا ہے اور یہ لوگ بھی عید میلاد النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت کر کے اپنا منصب جانشینی ادا کر رہے ہیں ۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں! اے ربیع الاول
سواۓ ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

ایک اور بات جو قرآن پاک کی تلاوت کے دوران میرے ذہن میں آئی کہ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالی نے جب میثاق کے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے ذکر کی محفل منعقد کی تو اس میں صرف انبیاء کرام علیھم السلام کی ارواح طیبات کو مدعو کیا

وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثٰقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیۡؕ قَالُوۡۤا اَقْرَرْنَاؕ قَالَ فَاشْہَدُوۡا وَاَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ﴿۸۱﴾

اور یاد کرو جب اللّٰہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں، تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایاتو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں

مطلب کیا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی محفل اتنی پاکیزہ محفل ہے کہ اس کو ہر کوئی نہیں سجا سکتا جو محبوب ہو گا وہ سجاۓ گا اور ہر کوئی محفل میں آ بھی نہیں سکتے صرف خواص آئیں گے جیسا کہ اوپر آیت میں ظاہر ہے کہ اللہ نےاپنےمحبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی مبارک محفل میں انبیاء علیھم السلام کو مدعو کیا ۔۔۔ کسی نے اس کو کتنے خوبصورت پیراۓ میں ذکر کیا ہے کہ
محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں
آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں

تو مبارک ہے ان کے لیے جو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی مبارک محفل کا اہتمام کرتے ہیں اور سنت الہی ادا کرتے ہیں اور مبارک ہے ان کے لیےجو میلاد کی مبارک محافل میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے قلوب کو ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو سے معطر کرتے ہیں

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس دن کو مناتے تو ضرور ہیں مگر شریعت کی حدود سے نکل جاتے ہیں جیسا کے انڈین گانوں پر رقص کرنا ، بے پردہ عورتوں کا بازاروں کی سجاوٹ کو دیکھنے کے لیے نکلنا، ڈھول بجانا ، وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب کام ٹھیک نہیں ہیں اور نہ ان کاموں کا عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تعلق ہے ۔۔ یہ سب لوگ جہالت کی بنا پر اور اس مبارک دن کی عظمت سے غفلت کی بنا پر کرتے ہیں اور نہ ان لوگوں کا عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تعلق ہوتا ہے ۔۔ کیونکہ عاشق تو محبوب کے گلی کوچے کے کتوں کا بھی احترام کرتا ہے اور یہ کیسے جاہل اور غافل لوگ ہیں جو اس مبارک دن کی عظمت کو بھولے ہوے ہیں اور یہ ذیادہ تر وہ لوگ ہیں جو علماء اہل سنت کی صحبت میں بیٹھنا تو درکنار کبھی مساجد کا منہ بھی نہیں دیکھتے اور ان جاہل لوگوں کی خرافات کی وجہ سے نہ تو اس مقدس دن کی حرمت میں فرق آۓ گا اور نہ ہی عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک عمل سے کوئی تعلق مانا جاۓ گا۔

ہاں ان جاہل اور غافل لوگوں کی خرافات کو بنیاد بنا کر عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بھونکنے والوں کو اور عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انگلی اٹھانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کہاں عاشقان رسول کا مبارک عمل اور کہاں ان جاہل لوگوں کی خرافات۔۔۔ ہاں ان خرافات کو مٹانا چاہیے نہ کہ اس مقدس دن کو اور عاشقان رسول کے مبارک عمل کو ۔

کیا داڑھی منڈانا اسلام میں حرام نہیں ؟ مگر بکثرت داڑھی منڈے نماز بھی پڑھتے ہیں اور تلاوت قرآن پاک بھی کرتے ہیں تو کیا ہم لوگ نماز یا تلاوت قرآن کو بند کروائیں گے ۔۔۔؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں ۔۔ بلکہ ہم ان لوگوں سے کہیں گے کہ داڑھی رکھو کیونکہ یہ سنت رسول اور واجب کے قریب ہے اور نماز اور تلاوت قرآن کے مزے لو۔

اسی طرح عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک دن پر پابندی نہیں لگائی جاۓ گی بلکہ ان خرافات کو مٹایا جاۓ گا جو خلاف شریعت ہیں ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و تقدس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور ہمیں ادب و احترام کے ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوب کر خرافات سے بچتے ہوے محافل میلاد کا انعقاد کرنے کی سعادت تا حیات ملتی رہے اور حاسدین دین کو ہدایت عطا فرما کر محفل میلاد منعقد کرنے والا بناۓ اور اگر ان کے دلوں میں بغض رسول کی بیماری ہے تو اللہ ان کو تباہ و برباد فرماۓ آمین بجاہ النبی الا مین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

طالب دعا،
ڈاکٹر صفدر علی قادری