اونٹ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1854 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



یہ بہت سے نبیوں اور رسولوں کی سواری ہے۔
خود حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی سواری فرمائی اور آپ کی دو اونٹنیاں بہت مشہور ہیں۔
ایک ٭قصویٰ٭ اور دوسری ٭عضباء٭ جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کبھی دوڑ میں کسی اونٹ سے مغلوب نہیں ہوئی تھی مگر ایک مرتبہ ایک اعرابی کے اونٹ سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی تو حضرات صحابہ کرام کو بہت شاق گزرا۔ اس موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر یہ حق ہے کہ جب وہ کسی دنیا کی چیز کو بلند فرما دیتا ہے تو اس کو پست بھی کردیتا ہے۔
مروی ہے کہ آپ کی اونٹنی ٭عضباء٭نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور وفات پا گئی اور بعض روایتوں میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی۔
-----------------------------------------------
(تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۸۹،پ۱۴، النحل:۷)
٭حیات الحیوان٭ میں ہے کہ اونٹ کے بالوں کو جلا کر اس کی راکھ اگر بہتے ہوئے خون پر چھڑک دی جائے تو خون فوراً بند ہوجائے گا اور اونٹ کی کلنی اگر کسی عاشق کی آستین میں باندھ دی جائے تو اس کا عشق زائل ہوجائے گا اور اونٹ کا گوشت بہت مقوی باہ ہے۔
-------------------------------------------------------------------------
(تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۹،پ۱۴،النحل:۷)
===================
از: عَجَائِبُ القرآن
مع
غَرَائِبِ القرآن
مؤلف
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفٰی اعظمی
رحمۃ اللہ علیہ