اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خاں ایک عبقری شخصیت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2672 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خاں ایک عبقری شخصیت
*****************************************
تحریر : علامہ شیخ شریف محمد عبد القادرصاحب

خادم التدریس، جامعہ قادریہ طیّبیہ عالیہ، محمد پور ، ڈھاکہ، بنگلہ دیش
شیخ الاسلام والمسلمین،رئیس الحکماء والمتکلمین،امام المفسرین والمحد‏‎ثین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی عبقری اور آفاقی شخصیت کے متعلق کچھ خامہ فرسائی کرنا اور وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ آپ کی ہمہ جہت شخصیت پر ہزاروں ارباب نگارش و اصحاب قلم اپنے سریع السیر اور برق رفتار اقلام کو مہممیز دے چکے،ایسی صورت میں مجھ بے علم کا سپرد قرطاس کرنا انگلی کٹا کر شہیدوں کے دفتر میں نام لکھانے کے مترادف ہے۔

آپ کی ولادت با سعادت ہندوستان کے مشہور و معروف شہر بریلی شریف میں 10،شوال المکرّم 1272 ہجری مطابق 14،جون 1856 عیسوی بروز شنبہ بوقت دوپہر ہوئی۔آپ کا اسم شریف محمد رکھا گیا۔اور آپ کا تاریخی نام المختار اور جد امجد رضا علی خاں علیہ الرحمہ نے آپ کا نام احمد رضا تجویز فرمایا اور آپ نے خود اس آیئہ کریمہ سے اپنا سنہ ولادت نکالا ہے۔اولئک کتب فی قلوبھم الایمان و ایدیھم بروح منہ۔ یہ ہےوہ جن کے دلوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایمان نقش فرمایا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ علم حساب( ابجد) میں مذکورہ آیئہ کریمہ سے 1272 عدد نکلتے ہیں۔ اور وصال پاک 25صفر المظفر ،1340 ہجری مطابق 28 اکتوبر 1921 عیسوی بوقت جمعہ دو بجکراڑتیس منٹ پر ہوا،آپ کا مزار پر انوار محلہ سودگراں ،بریلی میں مرجع خلائق ہے۔آپ خود اس آیئہ کریمہ سے اپنی تاریخ وصال استخراج فرمائے۔ ویطاف علیھم باٰنیۃ من فضۃ و اکواب۔اور ان پر جنت میں چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا۔ظاہر ہےکہ آیئہ مذکورہ سے علم حساب(ابجد) میں 1340 عدد نکلتے ہیں۔

عہد طفولیت سے ہی آپ کی پیشانی میں نور کی سعادت کی کرنیں روشن تھے جسے اہل نظر نے دیکھا بھی اور نشان دہی بھی کی کہ یہ بچہ مستقبل کا ایک ایسا ستارہ ہے جو اپنے نور علم و فضل سے عالم اسلام میں سنّیت کا بول بالا کرے گا اور ماحی بدع وفتن ہوگا، اس کا قلم ہی دنیا والوں کے ليےتلوار ہوگا جس پر اس کا قلم اٹھ جائے اس کا بھرم کھل جائے گا۔چنانچہ :

کلک رضا ہے خنجر خونخوار برق بار
اعداء سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں

جب آپ 4،چار سال کے ہوئے تو قرآن پاک ناظرہ مکمل کر لیا، 6، چھ سال کی عمر میں اپنے زمانے کے ذہین و‏فطین علماء و فضلاء کے سامنے میلاد مصطفٰی پر آپ نے ایسی تقریر فرما‎ئی جو آج کا پروفیسر و محقق آدمی بھی نہیں کر سکتا۔8 سال کی عمر میں ہی آپ نے عربی زبان میں مشہور کتاب “ھدایۃ النحو” کی شرح لکھ کر علماء کو حیرت میں ڈال دیا جسے علماء نے خوب خوب سراہا۔ 10،دس سال10،دس ماہ،4،چار دن کی عمر میں رضاعت کے ایک اہم مسئلہ پر فتوٰی لیکھ کر آپ نے فتوٰی نویسی کا آغاز کیا۔آپ کی یہی دلچسپی دیکھ کر آپ کے والد ماجد مولانا مفتی نقی علی خاں قدس سرہ نے آپ کو فتاوٰی کے متعلق تمام ذمہ داریاں آپ کے سپرد کر دیں ۔اسی طرح اپنی بے نظیر ذکاوت اور محیّر العقول ذہانت کے بل بوتے پر تیرہ سال دس ماہ پانچ دن کی عمر میں تمام مروجہ علوم عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کر کے فارغ التحصیل ہوگئے۔

جس وقت آپ اس کرۂ ارض پر جلوہ فگن ہوئے اس وقت ہر چہار دانگ علم و فن کابازار گرم تھا۔آپ کا دور تعلیمی اعتبار سے نہایت ہی درخشند ہ و تا بندہ تھا۔ہر مکتب فکر کے جیّد علماء اس وقت موجود تھے۔اس دور کی علمی تابانی کا عالم یہ ہے کہ کوئی خاتم المفسرین تھا تو کوئی خاتم المحدثین اگر کوئی خاتم المحققین تھا تو کوئی خاتم المدققین۔اگر کوئی امام الفقہاء تھا تو کوئی امام الکلام،غرض ایک سے ایک راسخ العلم اس وقت موجود تھے مگر بسیار تتبع و تلاش کے بعد بھی کوئی ایسی شخصیت نہیں ملتی جو کم از کم پانچ علوم و فنون کی جامع اور ان پر کامل دسترس و دستگاہ رکھتی ہو۔لیکن اس وقت سب سے انفرادیت کی حامل امام احمد رضا کی ذات گرامی نظر آتی ہے جو بیک وقت پچپن علوم و فنون عقلیہ و نقلیہ پر کامل ہی نہیں بلکہ اکمل طریقے سے ید طولٰی رکھتی تھی۔جن میں سے صرف اکیس،21 علوم آپ نے اپنے اساتذہ سے حاصل کئے بقیہ دیگر تمام علوم و معارف خود اپنی کد و کا ‎‎وش کا ثمرہ ہے، اتنے علوم کے جامع ہونے کے بعد بھی یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ آپ اس فن میں زیادہ مہارت رکھتے تھے اور اس میں کم بلکہ اگر علم تفسیر میں قلم اٹھایا تو صاحب تفسیر خازن،روح البیان اور کرخی و بیضاوی کی تصویر نظر آئے اگر علم حدیث کی طرف رخ کیا تو امام بخاری و مسلم کی نظیر دیکھائی دیئے ،فقہ حدیث میں محمّد‎ بن حسن شیبانی کے ثانی تھے،عقائد و کلام میں امام ابو منصور ما تریدی اور ابوالحسن اشعری کے پر تو تھے،اگر فصاحت و بلاغت کی موتیاں بکھیرتے تو تفتازانی کی شبیہ نظر آجاتی،اگر اسرار شریعت و طریقت پر بات کرتے تو ابن عربی اور شعرانی کو پیچھے چھوڑ دیتے۔میدان فقہ میں قدم رنجہ ہوئے توامام اعظم و محمد کے ہمنشیں معلوم ہوئے،اگر اصول فقہ میں بحث کرتے تو امام ابو یوسف کے عکس نظر آتے۔المختصر ہر فن میں یکتائے روزگار اور نابغئہ زمانہ تھے۔ بیک وقت تمام علوم و فنون پر کامل دسترس رکھتے تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ نے کسی مدرسے میں داخلہ نہیں لیا بلکہ جملہ علوم و فنون اپنے والد گرامی علامہ مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمہ والرضوان سے حاصل کئے۔ اس سےان کی جلالت علمی کا اندازاہ لگا یاجاسکتا ہے کہ آپ سے تعلیم حاصل کر کے آپ کا شہزاداہ علم و حکمت کا امام اور دنیائے فکر و فن کا پیشوا بنا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اپنے والد گرامی کے ہمراہ 1294،ہجری میں حضرت شاہ آل رسول احمدی قدس سرہ کی بارگاہ ولایت و سیادت میں حاضر ہوئے۔مرید ہوتے ہی سلاسل طریقت کی اسناد سے نوازے گئے۔حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں علیہ الرحمہ والرضوان نے اپنے جد کریم حضرت شاہ آل رسول احمدی سے عرض کیا: حضور ! آپ کے یہاں تو طویل عرصہ با مشقت مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت واجازت دی جاتی ہے۔ تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ان دونوں (اعلیٰ حضرت اور آپ کے والد ماجد قدس سرھما)کو بیعت کرتے ہی خلافت دے دی گئی۔جواب میں حضرت شاہ آل رسول احمدی نے ارشاد فرمایا: “میاں صاحب ! اور لوگوں زنگ آلود میلاکچیلا دل لے کر آتےہیں اس کی صفائی اور پاکیزگی کے لئے مجاہدات طویلہ اور ریاضات شاقہ کی ضرورت پڑتی ہے۔مگر یہ دونوں حضرات صاف ستھرا دل لے کر ہمارے پاس آئے۔ان کو صرف اتصال نسبت کی ضرورت تھی اور وہ مرید ہوتے ہی حاصل ہوگئی”۔

اس کے بعد مرشدگرامی نے یہ بھی فرمایا: “مجھے اس بات کی بڑی فکر رہتی تھی کہ جب قیامت کے دین اللہ تعالی فرمائے گا۔ائے آل رسول ! تو دنیا سے کیا لایا ہے؟ تو میں بارگاہ الہی میں کون سی چیز پیش کروں گا۔لیکن آج وہ فکر میرے دل سے دور ہوگئی۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ائے آل رسول ! تو میرے لئے کیا لایا ہے تو میں عرض کروں گا الہی تیرے لئے احمد رضا لایا ہوں”۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ چود ہویں صدی کے مجدّد تھے اگر آپ کی مذہبی اور روحانی گراں قدر خدمات کا جائزہ لیا جائےتو آپ اپنے وقت کے بے مثل و بے مثال عالم نظر آتے ہیں اور آپ کےعلم و فضل اور زہد و تقوٰ‏‎ی کے اعتبار سے آپ کی حیات مقدسہ کا باب کھولا جائے تو ہر اعتبار سے آپ کا مصداق کامل اترتے ہیں، امام احمد رضا دنیائے سنّیت کے عظیم المرتبت تاجدار تھے،جنہوں نے اجٹرے ہوئے گلستان کو نئی زندگی عطا کی اپنی شیریں بیانی سے پیچھڑے ہوئے لوگوں کو قریب کیا اپنی تقریر سے بے دینوں کا منہ بند کیا اپنی سیف قلم سے سرکشی کے رشتوں کو مجروح کر دیا۔امام احمد رضا نے پر چم عظمت مصطفٰی کو پوری دنیا میں لہرایا اور لوگوں کے دلوں سے جہالت کا نقشہ مٹایا گمراہ لوگوں کو راہ حق کی طرف گامزن کرنے کی انتہائی کوشش کی۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ ایسے نازک دور میں پیدا ہوئے جس میں طرح طرح کےباطل فرقوں نے جنم لیا، قسم قسم کے نئےمسائل پیش آئے،ہر طرف سے نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کی جانے لگیں۔دیوبندیت و نجدیت کی ناپاک کوششیں بلندیوں پر تھیں۔ ایسے نازک تر دور میں امام احمد رضاجیسی ہمہ گیر شخصیت نے جنم لیا اور اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی طاقت سے تمام باطل فرقوں کےقلعوں کو اکھاڑ پھینکا اور دین مصطفٰی صلی اللّہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلّم کے بجھتے ہوئے چراغ کو روشن فرمایا۔آپ نے علوم و معارف کے دریا بہائے ہیں انہیں چیزوں سے متآثر ہو کر علماء عرب و عجم نے بالاتفاق آپ کو چود ہویں صدی ہجری کا مجدّد تسلیم کیا۔

یوں تو عالم اسلام میں امام احمد رضا قدس سرہ کا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب وہ 1295ہجری، مطابق 1878،عیسوی میں اپنے والد ماجد علامہ مفتی نقی خاں قادری بریلوی قدس سرھما کے ہمراہ حج بیت اللہ کے لئے حرمین شریفین پہلی بار حاضر ہوئے۔اس موقع پرحرم مکہ مکرمہ کے منصب جلیل “مفتی شافعیہ”پر فائز اور وقت کی عظیم شخصیت حضرت مفتی حسین بن صالح جمل اللیل المکی قدس سرہ السامی(متوفی 1302 ہجری، مطابق 1884عیسوی) نے بغیر کسی سابقہ تعارف کے (مسجد حرام میں بعد فراغت نماز مغرب)امام احمد رضا کا ہاتھ پکڑا اور ان کی پیشانی دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھے “انی لاجد نور اللہ من ھذ ا الجبین” میں اس (امام احمد رضا کی) پیشانی میں اللہ کا نور دیکھ رہا ہوں۔

امام احمد رضا قدس سرہ کےاس پہلےسفر کے موقع پر آپ کی علمی جاہ وجلال کو دیکھتے ہوئے شیخ حسین بن صالح کے علاوہ مفتی شافعیہ سیّد احمد بن زینی دحلان مکی (متوفی1299ہجری، مطابق 1881عیسوی) مفتی حنفیہ شیخ عبد الرحمٰن سراج مکی(متوفی 1301ہجری، مطابق 1883عیسوی) ودیگر بہت سے اکابر واعاظم علماء نےتفسیر،حدیث،فقہ اور اصول فقہ وغیرہ کی سندوں سے آپ کوبغیر کسی مطالبہ کے سرفراز فرمایا۔

فاضل بریلوی قدس سرہ کی مندرجہ ذیل عربی تصنیف نے علمائے اسلام خصوصا علمائے حرمین شریفین میں ان کے علمی وقار اور فقہ و حدیث اور علوم اسلامیہ میں ان کے بلند مقام کو روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

1- فتاوٰی الحرمین لرجف ندوۃ المین، (1316ہجری)
2- المستند المعتمد ،(1320ہجری)
3- الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ،(1323ہجری)
4- الاجازات المتینہ، (1324ہجری)
5- کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم(1324،ہجری )
6- الفیوض الملکیۃ (1325ہجری )

دوسری مرتبہ جب آپ زیارت حرمین شریفین کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے پہلےسفر کے نقوش ہی علمائےعرب کے قلوب واذہان پر اس طرح ثبت تھے کہ آپ کو وہاں ہاتھوں ہاتھ لے گیا،چنانچہ اس بار کے سفر کے موقع پرسنہ 1323ہجری، 1905عیسوی میں علم غیب کے موضوع پر الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیہ کو حرم کعبہ کے چھا‎ؤں میں صرف ساڑ ھے آٹھ گھنٹے میں امام احمد رضا نے تحریر فرما کر جب علمائے عرب کے سامنے پبش کیا تو انہوں نے بڑی پذیر ائی کی اور علمائے عرب کی ایک کثیر تعداد نے امام احمد رضا کی اس کتاب الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (بزبان عربی) کو حسن انداز میں سراہا اور داد و تحسین سے نوازا اور آپ کو بے شمار القاب سے نوازا۔

ا علیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے پچپن سے زائد علوم و فنون پر ایک ہزار سے زائدکتابیں لکھیں مگر ان میں سب سے اہم” فتاوٰی رضویہ” ہے جس کو مذھب حنفی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہےجو 27 ،جلدوں پر مشتمل ہے۔آپ کے ترجمہ قرآن “کنز الایمان” دیوان شاعری “حدائق بحشش”علم غیب مصطفٰی کے موضوع پر “الدولۃ المکیۃ” کا کوئی جواب نہیں ۔ آپ نے جہاں دینی و مذھبی تصنیفات اس قوم کو عطا فرمایئں و ہیں عصری موضوع پر بھی کتابیں لکھیں اور سائنس کے اصول سے بھی مذھب اسلام کی صداقت و حقانیّت کو واضح کیا۔

آپ ہی وہ عظیم عبقری شخصیت ہیں جن پر تقریبا دو درجن سے زائد حضرات ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں اور کئی حضرات مختلف جامعات میں آپ پر پی، ایچ، ڈی اور ایم،فل کر رہے ہیں۔شاید کسی شخصیت پر اتنے کم وقت میں اس قدر کثرت سےتحقیقی کام ہوا ہو۔آپ نے پوری زندگی شریعت محمدیہ اور سنّت مصطفٰویہ کا چرچا کیا۔اس کا صلہ یہ ہے کہ آج عالم میں آپ کا اور آپ کی خدمت کا چرچا ہو رہا ہے۔آپ نے وہ کا رہائے نمایا ںانجام دئے ہیں کہ جنہیں دنیا کبھی فرا موش نہیں کر سکتی۔

آپ کے علم کا سکہ شعرو شاعر ی میں بھی رائج الوقت ہے خود فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن ہی سےنعت گوئی سیکھی :

قرآن سے میں نےنعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ

میں نے اپنی شاعری میں احکام شریعت کا پاس رکھا اور فکر و خیال کو غلبہ نفس سے محفوظ رکھتے ہوئے شاعری کی ،امام احمد رضا کی شاعری لغویات وخرافات سے پاک اور عشق شافع محشر سےلبریز ہے۔آپ کی شاعری میں حمد خدا، نعت سرور کونین اور اولیائےکرام کی تعریف و توصیف میں مناقب پائی جاتی، کبھی کسی شہنشاہ یا کسی امراء کی تعریف نہیں کی جو کہ اس شعر سے ثابت ہے۔

کروں مدح اہل دول رضا
پڑے اس بلا میں میری بلا

میں گدا ہوں اپنے کریم کا
مرا دین پارۂ نان نہیں

امام احمد رضا کی ‎شعر شاعری پر “حدائق بخشش” کے نام سے ایک ضخیم نعتیہ دیوان ہمارے ہا تھوں میں موجود ہے جس کا ہر شعر کسی نہ کسی آیت کا مفہوم یا پھر حضور اکرم صلی اللّہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ میں سے کسی حدیث پاک کا ترجمان ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس کا حق ادا کر دیا۔متعلقہ موضوع پر کوئی گو‎شہ چھوڑا ہی نہیں جو تشنہ رہ گیا ہو۔
ان کا مشہور زمانہ سلام “مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھو سلام” قصیدۂ معراجیہ ‘قصیدۂ نور’، قصیدۂ چراغ انس، عربی قصائد، فارسی مناقب شاہکار تخلیقات کا درجہ رکھتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے جتنا بھی کام کیا تحقیق و تصنیف تراجم و تفاسیر کا وہ تو سب مسلّم ہے لیکن ان کی زندگی کا بنیادی مقصد عشق رسول اکرم تھا،ان کا نصب العین تعظیم رسول تھا،ان کی ہر ہر ادا عشق مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی آئینیہ دار تھی۔ان کا ہر ہر قدم مصطفٰی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع اور محبّت کے لئے وقف تھا اور یہی وہ جذبہ تھا جس کی وجہ سے مولانا احمد رضا خاں “ا‏علیٰ حضرت” بن کر سنی مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کر رہے ہیں۔ رسول کی تعظیم کرنے والوں ،اولیائے کرام سے عقیدت رکھنے والوں کو کل بھی اعلیٰ حضرت اچھّے لگتے آج بھی وہ ان کی پہلی چاھت ہیں اور یہ سب صدقہ ہے عشق رسول کا یہ انعام ہے ناموس رسالت پر خود کو قربان کرنےکا۔

امام اہل سنّت امام احمد رضا خاں قدس سرہ ایک غیرت مند اور وفادار عاشق رسول تھے،”عشق کا تقاضہ یہ ہے کہ” محبوب کے اعداء سے نفرت اور محبوب کے محبّین سے محبّت کی جائے”۔بلا شک و شبہ آپ اس جملے کا مصداق تھے کیونکہ تاریخ کے صفحات بتا رہے ہیں کہ آپ نے تا حیات اپنی زبان اور اپنے قلم کے ذریعہ سے باغیان مصطفٰی کی سر کوبی کی ہے اور ہمیشہ اس شئی سے محبت کی ہے جس کو سرکار نے محبوب رکھا اور دشمنان رسول کے سائے سے بھی دشمنی رکھتے تھے۔ان کے عشق نبی کا حال تو یہ تھا کہ لوگوں نے آپ سے عشق کرنا سیکھا اور آپ نے توعشق رسول کو ایک الگ اور انوکھا روپ دیا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ عشق کی سرفرازی کا کچھ اس انداز میں ذکر فرماتے ہیں:

اے عشق تر ے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دیگی وہ آگ لگائی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جان ہے عشق مصطفٰی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں۔

حضرت مولانا مفتی سیّد حامد علی جلالی تحریر فرماتے ہیں وہ فاضل بریلوی فنا فی عشق رسول کریم تھے ۔اپنے محبوب کی شان میں ادنٰی گستاخی بھی برداشت نہ کر سکتے تھے۔ضیاء المشائخ حضرت محمد ابراہیم فاروقی مجددی شور بازار کابل افغانستان کا ایما ن افروز تاثر ہے کہ مولانا احمد رضا خاں قادری حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کےعاشق صادق اور آں حضور کی محبت میں سرشار تھے۔ان کا دل عشق محمدی کے سوز سے لبریز تھا چنانچہ ان کے نعتیہ کلام اور نغمات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں۔

حضرت صاحب زادہ ہارون الرشید دربار عالیہ موہڑہ شریف اس شمع عشاق کے بارے میں بیاں فرماتے ہیں۔”اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز کا ہر قول اور ہر فعل عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم سے اسطرح لبریز، معلوم ہوتا ہے گویا خالق کل نے آپ کو احمد مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے لئے شمع ہدایت بنایا ہے،تاکہ ہر مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کر سکے”۔

آپ کا عشق رسول میں سر شار ہونا صرف آپ کےمعتقدین نے ہی نہیں تسلیم کیا بلکہ آپ کے مخالفین نے بھی تسلیم کیا ہے۔چنانچہ اشرّ فعلی تھانوی کا قول “میرے دل میں احمد رضا کے لئے بے حد احترام ہے وہ ہمیں کافر کہتا ہے لیکن عشق رسول کی بنا پر کہتا ہے کسی اور غرض سے نہیں کہتا”۔

مولوی ملک غلام علی نائب مودودی کی نظر میں “حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ان کی بعض تصانیف او ر فتوٰی کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یاں پائی وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے۔عشق فنا فی رسول تو ان کی سطر سطرسے پھوٹا پڑتا ہے”۔(ضمیمہ امام احمد رضا) ۔

آپ عشق رسول میں دیوانے تھے لیکن ایسا فرزانے تھے کہ:
پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بقرار
روکئے سر کو روکئے ہاں ! یہی امتحان ہے

جوش جنون میں آپ نے ” رو کئے سرکوروکئے” سے ہوش حدود کی لگا م لگا کر “ہاں ! یہی امتحان ہے”۔کہہ کر پاس شریعت ملحوظ رکھی اور غلو سے محفوظ رہا۔اپنی محبت کے جذبے کو آپ نے جوش الفت اور ہوش شریعت کی سرحدوں کے مابین محدود رکھا۔

سادات کرام کا جواحترام اعلیٰ حضرت کےیہاں تھا وہ بے مثل و بے نظیر ہے جس کے ثبوت میں ہزاروں واقعات زینت قرطاس ہو سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شریعت مصطفٰی اور محبت مصطفٰی دونوں کا سنگم صرف اور صرف امام احمد رضا کاحصہ تھا۔فرمایا اگر سادات کرام پر حکم شرع لگانے کی نوبت آجائے تب بھی دل میں یہ نیت ہونی چاھیئے کہ شہزادے کے دامن پر کیچڑ لگی ہے اس کو صاف کیا جارہا ہے۔سبحان اللہ یہ ہے دین کے سچے خادم کی شان اور آل مصطفٰی سے وفاداری۔

امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت،عظیم البرکت،مجدد دین و ملت،مولانا شاہ محمد احمد رضا خاں قدس سرہ واقعی ایک دردمند دل رکھنے والی ذات کا مبارک نام ہے۔آپ جہاں دین و مذہب کے مخلص رہنما تھے وہیں قوم کا درد رکھنے والے سچے ہمدرد بھی تھے۔چنانچہ جب امام احمد رضا نےغیر منقسم ہند کے مسلمانان کی خاطر اور ان کے مذھب و دنیاوی حقوق کے تحفظ کیلئے ترک موالات کی تحریک چلائی اور تحریک اتحاد ہند و مسلم کی مذمتیں ادلئہ شرعیہ سے ثابت کر کے الحجۃ الموتمنہ تصنیف فرمائی اور روز روشن کی طرح واضح کر دیا کہ ہندوستان میں دو قومی نظریہ کی اشد ضرورت ہے۔ تواعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے دو قومی نظریہ کی داغ بیل ڈالی، جس کے بل بوتے پاکستان معرض وجود میں آیا ۔اعلیٰ حضرت کے و صال کے بعد تحریک دو قومی نظریہ کو آپ کے صاحبزادگان ،خلفاء اور تلامذہ نے آگے لے گیا۔
حوالہ جات
1- حدائق بحشش-حسان الہند اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان۔
2- ” حیات اعلیٰ حضرت، علامہ سیّد ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ والرضوان۔
3- ماھنمامہ اعلیٰ حضرت،بریلی شریف،شمارہ: ماہ مارچ- اپریل 1994 عیسوی، ماہ فروری- مارچ 2011عیسوی، ماہ مارچ 2012عیسوی ، ماہ جنوری 2013 عیسوی۔
4-تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ ۔